نیشنل

وندے ماترم کے کتنے بند گائے جائیں، فیصلہ شہریوں کا ذاتی معاملہ: سپریم کورٹ – تمام بند نہ گانے پر فوجداری کارروائی نہیں کی جاسکتی

وندے ماترم کے کتنے بند گائے جائیں، فیصلہ شہریوں کا ذاتی معاملہ: سپریم کورٹ

 

نئی دہلی: وندے ماترم گیت کی مکمل چھ بندوں کے ساتھ گانے کو لازمی قرار دینے کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے اہم تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وندے ماترم کا ایک بند گایا جائے یا چار یا تمام چھ بند، کتنے بند گانے ہیں، یہ شہریوں کا ذاتی فیصلہ ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام بند نہ گانے والے افراد کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔

 

یہ معاملہ کرناٹک موسیقی کے معروف فنکار ٹی ایم کرشنا کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے بعد سامنے آیا۔ کرشنا نے مرکز کی جانب سے وندے ماترم کے تمام چھ بند گانے کو لازمی قرار دینے اور اس سلسلے میں قانون میں کی گئی ترمیم کو چیلنج کیا ہے۔

 

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے منگل کو درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ وہ وندے ماترم نہ گانے یا اس کی گانے میں خلل ڈالنے پر سزا سے متعلق قانون کے پہلو کا جائزہ لے گی۔ عدالت نے مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔

 

گزشتہ تقریباً 70 برس سے سرکاری پروگراموں اور دیگر مواقع پر وندے ماترم کے پہلے دو بند گانے کا رواج رہا ہے۔ تاہم مرکز کی جانب سے 2026 میں جاری ہدایات کے تحت وندے ماترم کے مکمل چھ بندوں پر مشتمل سرکاری ورژن کو اختیار کیا گیا۔ آکاش وانی نے بھی مارچ 2026 سے چھ بندوں پر مشتمل ورژن نشر کرنا شروع کیا۔

 

مرکز کی جانب سے لائی گئی قانونی ترمیم کے تحت وندے ماترم گانے سے جان بوجھ کر روکنے یا اس کی گائیکی میں خلل ڈالنے کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر تین سال تک قید کی سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ٹی ایم کرشنا نے اپنی درخواست میں اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وندے ماترم کے آخری چار بندوں میں مذہبی نوعیت کے مخصوص حوالہ جات موجود ہیں، اس لیے کسی شخص کو انہیں لازمی طور پر گانے پر مجبور کرنا آئینی سیکولرازم، مذہبی آزادی اور شخصی آزادی کے خلاف ہوگا۔

 

درخواست میں شہریوں کے مذہبی عقائد اور ضمیر کی آزادی کے آئینی تحفظ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بھی شہریوں کے مذہبی عقائد کے آئینی تحفظ کی اہمیت واضح کی۔

 

وندے ماترم کے مکمل چھ بندوں کو گانا  لازمی قرار دینے کا معاملہ اس وقت سیاسی بحث کا بھی موضوع بنا ہوا ہے۔ کرناٹک میں ریاستی حکومت نے بیشتر سرکاری پروگراموں میں صرف پہلے دو بند گانے کی ہدایت دی ہے، جبکہ صدر، نائب صدر، وزیر اعظم یا گورنر کی موجودگی والے پروگراموں میں تمام چھ بند گانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس معاملے پر کرناٹک ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے۔

 

سپریم کورٹ نے تاہم فی الحال اس سوال پر فیصلہ نہیں دیا کہ وندے ماترم میں صرف دو بند ہونے چاہئیں یا تمام چھ۔ عدالت نے بنیادی طور پر اس قانونی سوال کا جائزہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ کسی شخص کے وندے ماترم نہ گانے یا مکمل چھ بند نہ گانے پر اسے فوجداری سزا دی جاسکتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button