نیشنل

ملا افروز کی غیر قانونی حراست پر سپریم کورٹ کا سخت فیصلہ – یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

سپریم کورٹ نے منگل کو 2024 کے سنبھل تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ملا افروز کی نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت احتیاطی حراست ختم کردی۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا جس میں حراست کے حکم کو برقرار رکھا گیا تھا

 

۔عدالت نے کہا کہ پولیس حراست میں مبینہ طور پر دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر احتیاطی حراست کا حکم جاری نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے غیر قانونی حراست کا حکم جاری کرنے پر اترپردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ملا افروز سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے بعد نومبر 2024 میں پیش آئے تشدد کے معاملے میں ملزم ہیں، جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

انہیں واقعے کے تقریباً 54 دن بعد مبینہ پولیس حراست میں دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی، تاہم 13 اکتوبر 2025 کو ان کے خلاف NSA کے تحت حراستی حکم جاری کیا گیا، جسے ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔ اس کے بعد افروز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

 

سپریم کورٹ میں افروز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس حراست میں دیا گیا اعترافی بیان قانونی طور پر قابل قبول نہیں اور محض متعدد فوجداری مقدمات کی موجودگی احتیاطی حراست کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ عدالت نے بھی 8 ستمبر کو سماعت کے دوران ایسے اعترافی بیان کی قانونی اہمیت پر سوال اٹھایا تھا۔

Shadi
Shadi

متعلقہ خبریں

Back to top button