’گیانیش کمار کے پاس ایسی کون سی معلومات ہیں کہ حکومت انہیں بچا رہی ہے؟‘ رہائی کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی قائدین کے کئی سوالات

نئی دہلی: دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قائدین نے رہائی کے بعد الزام لگایا کہ ہفتے کے روز انہیں طیارے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
سورو داس نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ پورا ملک ایمرجنسی جیسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔سورو داس نے کہا، ’’مظاہرین صرف اپنے مسائل حکومت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں لیکن آج حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہے۔ دہلی کو تقریباً 40 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
50 سے زائد میٹرو اسٹیشنوں، دکانوں اور سڑکوں کو بند کرکے ہماری تحریک کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘سورو داس نے مزید کہا ’’وہ جین زی تحریک کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے ہی ہم طیارے سے اترے، پولیس فوراً طیارے کی سیڑھیوں پر چڑھ گئی اور ہمیں اغوا کر لیا۔
یہ وہی حکومت ہے جس نے نیرو مودی اور وجے مالیا کو طیاروں کے ذریعے بیرونِ ملک جانے دیا تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ ہمیں حراست میں لیا جائے گا، لیکن اس طرح اغوا کیے جانے کی توقع نہیں تھی۔‘‘داس نے مزید الزام لگایا، ’’پولیس نے ہمیں کوئی دستاویز نہیں دکھائی اور نہ ہی حراست میں لینے کی کوئی وجہ بتائی۔ خاتون پولیس اہلکاروں کے ذریعے زبردستی ہمارے فون چھین لیے گئے۔ ہم نے فون حوالے کرنے کے باوجود ضبطی کی رسید (مَیمو) طلب کی لیکن پولیس نے دینے سے انکار کر دیا۔
‘‘انہوں نے کہا کہ پولیس انہیں الگ الگ نجی گاڑیوں میں لے گئی۔ ان کے مطابق، وہ خود آر کے پورم میں تھے، آشو توش بلبھ گڑھ میں تھے جبکہ ابھیجیت کو کسی دوسری جگہ لے جایا گیا۔سورو داس نے الزام لگایا کہ انہیں وکیل مقرر کرنے کے قانونی حق سے بھی محروم رکھا گیا۔ پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ حراست میں ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔سورو داس نے کہا کہ انہیں وکلا سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا ’’سوچئے کہ یہ لوگ دوسروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے۔ ہمیں اپنے وکلا سے ملنے نہیں دیا گیا۔ ہمیں شبہ ہے کہ ہمارے فون کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا ہوگا۔ ممکن ہے کہ ہمارے فون ہیک یا کلون کیے گئے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں ثبوت ڈالے گئے ہوں۔ یہ ایک معقول شبہ ہے، کیونکہ پولیس نے ہمیں کوئی دستاویز نہیں دی اور 24 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ہمارے فون اپنے قبضے میں رکھے۔‘‘
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے کہا، ’’اس حکومت کا خاتمہ بہت قریب ہے۔ میں سکھ بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہماری مدد کریں اور اس کے خلاف جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہمارے ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ یہ سب کچھ ایک شخص، یعنی گیانیش کمار کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘‘انہوں نے سوال کیا ’’گیانیش کمار کے پاس ایسی کون سی معلومات ہیں کہ حکومت انہیں بچانے میں لگی ہوئی ہے؟
کیا انہیں 2024 کے انتخابات کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟‘‘سورو داس نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا ’’حکومت مکمل طور پر بے قابو ہو چکی ہے۔ یہ سب گیانیش کمار کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے جنہیں میں ملک کا سب سے بڑا غدار قرار دیتا ہوں۔ حکومت کو خوف ہے کہ بیدار نوجوان اس سے جواب طلب کریں گے، اسی لیے وہ تشدد کا سہارا لے رہی ہے۔‘‘انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر پُرامن احتجاج کریں۔
ان کا کہنا تھا ’’یہ نظام بدعنوان ہے اور دو افراد نریندر مودی اور امیت شاہ کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہے۔‘‘



