جنرل نیوز

بچوں کی تعلیم و تربیت والدین، اساتذہ اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

بچوں کی تعلیم و تربیت والدین، اساتذہ اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

بچوں سے محبت، ان کے حقوق کا تحفظ اور اخلاقی تربیت ایک صالح اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے؛ ڈیجیٹل دور میں والدین کو بچوں کی ذہنی و اخلاقی نشوونما پر خصوصی توجہ دینی چاہیے

حیدرآباد، 11 اکتوبر (پریس ریلیز):

بچے کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ، معاشرے کا روشن مستقبل اور والدین کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمت ہیں۔ ان کے معصوم چہروں پر مستقبل کی امیدیں، ان کی آنکھوں میں خوابوں کی چمک اور ان کے کردار میں آنے والی نسلوں کی تعمیر کے امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ بچپن انسانی زندگی کا وہ نازک اور اہم مرحلہ ہے جس میں شخصیت کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں، عادات و اطوار تشکیل پاتے ہیں اور اخلاق و کردار کی وہ عمارت تعمیر ہوتی ہے جس پر مستقبل کی پوری زندگی قائم رہتی ہے۔ لہٰذا بچوں کی تعلیم، صحت، تحفظ، ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت کو محض خاندانی معاملہ سمجھنے کے بجائے ایک اہم سماجی اور قومی ذمہ داری کے طور پر قبول کرنا وقت کا بنیادی تقاضا ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری، پریزیڈنٹ لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، نے آج مرکزی دفتر لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12، حیدرآباد میں منعقدہ ہفتہ وار نشست ’’عوامی مسائل کا حل احکامِ شریعت کی روشنی میں‘‘ کے دوران عوام کی جانب سے پیش کیے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے اولاد کو نعمت قرار دینے کے ساتھ اس کی پرورش، تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصلاح کی ذمہ داری بھی والدین پر عائد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔‘‘ (سورۃ التحریم: 6) یہ آیت کریمہ اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اہلِ خانہ کی دینی و اخلاقی تربیت اور ان کی اصلاح کی فکر اہلِ ایمان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ بچوں کے ساتھ شفقت، محبت اور حسنِ سلوک کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے بچوں سے محبت و شفقت کا عملی مظاہرہ فرمایا اور امت کو بھی اسی طرزِ عمل کی تعلیم دی۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق جب ایک شخص نے اپنے بچوں کو بوسہ نہ دینے کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اس فرمانِ نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ محبت اور رحمت کا معاملہ محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ اسلامی اخلاق کا بنیادی تقاضا ہے۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ بچوں کی شخصیت سازی میں گھر کا ماحول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ والدین کے درمیان محبت، باہمی احترام، صبر و تحمل، سچائی اور خوش اخلاقی بچوں کے لیے خاموش مگر مؤثر درس گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس گھر میں مسلسل جھگڑے، بدزبانی، جھوٹ، تحقیر اور سخت رویہ بچوں کی ذہنی و جذباتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے اپنے کردار کو مثالی بنائیں، ان کے مسائل توجہ سے سنیں، ان کے احساسات کو سمجھیں اور ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کی رہنمائی کریں۔ ہر بچے کی ذہنی استعداد، دلچسپی اور قابلیت یکساں نہیں ہوتی؛ اس لیے بچوں پر غیر ضروری توقعات اور کامیابی کا بے جا دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کی تربیت کے تقاضے مزید اہم ہوگئے ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع نے بچوں کی سوچ، عادات اور طرزِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ان وسائل سے علم و آگہی اور تعلیمی ترقی کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں، لیکن غیر معیاری مواد، تشدد پر مبنی ویڈیوز، نامناسب کارٹون اور غیر محفوظ آن لائن روابط بچوں کی ذہنی و اخلاقی نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کی نگرانی کریں، عمر کے لحاظ سے موزوں مواد فراہم کریں اور انہیں ڈیجیٹل ذرائع کے محفوظ و ذمہ دارانہ استعمال کی تعلیم دیں۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی ذہن سازی کے لیے انہیں اپنے اسلاف کی پاکیزہ زندگیوں، ان کے اعلیٰ اخلاق اور قابلِ تقلید کردار سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفاداری، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا عدل و انصاف، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ادب و محبت اور صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی جرأت و عزم جیسے روشن نمونے بچوں کے لیے بہترین اخلاقی اسباق فراہم کرتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ان شخصیات کے واقعات دلچسپ اور سبق آموز انداز میں بچوں کے سامنے پیش کریں، تاکہ ان کے اندر سچائی، امانت داری، احترامِ انسانیت، خدمتِ خلق اور ذمہ داری کا احساس پروان چڑھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ اساتذہ، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور ریاستی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معیاری تعلیم، مناسب غذا، بنیادی طبی سہولتیں، کھیل کے مواقع اور تشدد و استحصال سے تحفظ ہر بچے کی بہتر نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ بچوں کے ساتھ جسمانی سزا، ذہنی اذیت، تحقیر یا کسی بھی قسم کے استحصال کو معمولی معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ والدین کو بچوں میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے، تاکہ وہ کسی پریشانی، نامناسب رویے یا خطرناک صورتِ حال کے بارے میں بلا خوف اپنے بڑوں سے بات کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوغت کی طرف بڑھتے بچوں کے ساتھ محض سختی اور حکم چلانے کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے دوستانہ گفتگو، اعتماد اور حکمت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ ان کے دوستوں، روزمرہ سرگرمیوں، تعلیمی مسائل اور ذہنی کیفیت سے باخبر رہنا ضروری ہے، تاہم نگرانی کے ساتھ ان کی عزتِ نفس اور جائز نجی حدود کا بھی احترام کیا جائے۔ بچوں کو نماز، دینی تعلیم، مطالعے، کھیل، گھریلو ذمہ داریوں اور خدمتِ خلق کی سرگرمیوں میں شریک کرکے ان کے اندر نظم و ضبط اور خود اعتمادی پیدا کی جاسکتی ہے۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ بچوں کو زندگی میں کامیابی کے ساتھ ناکامی کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی دینا چاہیے۔ زندگی ہمیشہ یکساں حالات کا نام نہیں؛ اس میں خوشی و غم، کامیابی و ناکامی اور آسانی و دشواری کے مراحل آتے رہتے ہیں۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور نئی ہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ہے۔ والدین اگر بچوں میں صبر، توکل، مثبت سوچ اور مستقل مزاجی پیدا کریں تو وہ مستقبل کے چیلنجوں کا زیادہ اعتماد اور سمجھ داری کے ساتھ سامنا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ بچوں کی تربیت میں والدین اور اساتذہ کا باہمی تعاون نہایت ضروری ہے۔ گھر اور اسکول کے درمیان مضبوط رابطہ قائم ہو، بچوں کی تعلیمی پیش رفت کے ساتھ ان کے اخلاق و کردار پر بھی توجہ دی جائے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ کسی بچے کی کمزوری یا غلطی پر اسے دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے محبت، حکمت اور مناسب رہنمائی سے اس کی اصلاح کی جائے۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ بچوں سے محبت، ان کے حقوق کی پاسداری اور ان کی ہمہ جہت تربیت دراصل ایک بہتر خاندان، صالح معاشرے اور روشن مستقبل کی تعمیر ہے۔ اگر والدین اپنے کردار کو سنواریں، اساتذہ اخلاص کے ساتھ تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیں اور ریاست بچوں کی بنیادی ضروریات و حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے تو ایک ایسی نسل تیار ہوسکتی ہے جو علم و ہنر کے ساتھ اخلاق، کردار، تہذیب اور انسانیت کی خدمت میں بھی نمایاں مقام حاصل کرے۔ بچوں کی صحیح تربیت پر صرف کیا جانے والا وقت اور محنت کبھی ضائع نہیں ہوتے، بلکہ یہی سرمایہ مستقبل میں خاندان، معاشرے اور پوری قوم کی ترقی و سربلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button