پیشاب کرنے پر سنگدل خاتون نے 3 سالہ بیٹی کا بے رحمی سے قتل کردیا ، چرکے دینے اور دانتوں سے کاٹنے کا دل دہلا دینے والا انکشاف

حیدرآباد: ریاست آندھراپردیش گنٹور میں ہفتے کے روز ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں ایک ماں نے اپنی ہی تین سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق نلّا چیروو علاقے کے رہنے والے ناگالکشمی اور سائی کی شادی پانچ سال قبل ہوئی ان کی ایک تین سالہ بیٹی انشیکا تھی۔ میاں بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کے باعث وہ کچھ عرصے سے الگ الگ رہ رہے تھے۔
فی الحال ناگالکشمی شاردھا کالونی کی پہلی گلی میں رہ رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ سبھاش نامی شخص کے ساتھ رہ رہی تھی۔اس دوران ہفتے کے روز ناگالکشمی اپنی بیٹی انشیکا کو گنٹور کے سرکاری اسپتال لے کر پہنچی۔ اس نے بتایا کہ بچی بے ہوشی کی حالت میں زمین پر گر گئی تھی۔
ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بچی کو مردہ قرار دے دیا۔ بچی کے جسم پر جلانے کے نشانات اور دانتوں سے کاٹنے کے زخم دیکھ کر ڈاکٹروں نے اسپتال کی پولیس چوکی کو اطلاع دی۔جب پولیس نے بچی کی ماں سے پوچھ گچھ کی تو اس نے متضاد جوابات دیے۔
اس پر پولیس ملازمین نے ارنڈل پیٹ پولیس کو اطلاع دی میڈیکو لیگل کیس (MLC) درج کیا اور بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے کی تیاری کی۔تاہم ناگالکشمی اور اس کے ساتھی سبھاش نے اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے شور شرابہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کا مقدمہ درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے بعد ارنڈل پیٹ کے سب انسپکٹر مہیش اسپتال پہنچے اور ناگالکشمی سے سختی سے پوچھ گچھ کی۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران اس نے اعتراف کیا کہ بچی پیشاب کر دیتی تھی اس لیے اس نے چرکہ دے کر اور دانتوں سے کاٹ کر اس کا قتل کردیا۔اس کے بعد پولیس نے ناگالکشمی اور سبھاش
دونوں کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔



