میاں بیوی نہیں تھے، عمرہ کی بھی تصدیق نہیں! مکہ میں دو بنگلہ دیشیوں کی سزائے موت کا معمہ برقرار

مکہ کی مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل کا الزام، دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت؛ کیا دونوں میاں بیوی تھے؟
نذرالاسلام کے والد نے شادی کی خبروں کی تردید کردی، عمرہ کے لئے جانے کا بھی کوئی مصدقہ ثبوت نہیں؛ بنگلہ دیشی حکومت نے سعودی عرب سے تفصیلات طلب کرلیں
حیدرآباد، 20 اکتوبر (اردو لیکس ڈیسک)سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے علاقے میں ایک مسجد کے اندر مبینہ غیر اخلاقی فعل کے الزام میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیئے جانے کے معاملے میں کئی اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔ سزائے موت پانے والوں کی شناخت نذرالاسلام اور سویٹی اختر کے ناموں سے کی گئی ہے۔ بنگلہ دیش کے معروف اخبارات دی ڈیلی اسٹار، ڈھاکہ ٹریبیون اور خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، دونوں کو 14 اکتوبر 2026 کو سزائے موت دی گئی۔ تاہم، ان کے باہمی تعلق، سعودی عرب جانے کے مقصد، مقدمے کی تفصیلات اور قانونی معاونت سے متعلق کئی پہلو اب بھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے بھی سعودی حکام سے واقعے کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
کیا دونوں میاں بیوی تھے؟
سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں نذرالاسلام اور سویٹی اختر کو میاں بیوی قرار دیا گیا، لیکن بنگلہ دیش کے معروف نیوز پورٹل جاگو نیوز 24 نے 19 اکتوبر کو نذرالاسلام کے والد عبدالبشیر کے حوالے سے اس دعوے کی تردید کی۔ والد کا کہنا تھا کہ سویٹی اختر ان کے بیٹے کی بیوی نہیں تھی اور ان کے خاندان کو اس خاتون کے بارے میں معلومات بھی نہیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ معلوم ہوا تھا کہ دونوں ایک ہی مقام پر کام کرتے تھے۔
اس بیان کی روشنی میں دونوں کو میاں بیوی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب معتبر بنگلہ دیشی رپورٹنگ میں ان کی شادی کی تصدیق نہیں ہوئی، بلکہ نذرالاسلام کے والد نے واضح طور پر اس کی تردید کی ہے۔
کیا وہ عمرہ ادا کرنے گئے تھے؟
اب تک دستیاب معتبر رپورٹس میں ایسا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا کہ نذرالاسلام اور سویٹی اختر عمرہ ادا کرنے کے لئے سعودی عرب گئے تھے۔ دی ڈیلی اسٹار کے مطابق، نذرالاسلام 10 نومبر 2022 کو روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گیا تھا اور وہاں صفائی کا کام کرتا تھا۔ اس کے والد کے مطابق، وہ اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے کے لئے بیرون ملک گیا تھا۔
جاگو نیوز 24 کی رپورٹ کے مطابق، نذرالاسلام نے سعودی عرب پہنچنے کے بعد تقریباً چھ ماہ کام کیا، جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے مبینہ طور پر اپنی کمائی سے گھر والوں کی مدد بھی کی تھی۔ سویٹی اختر سعودی عرب کس مقصد سے گئی تھی اور وہ وہاں کب پہنچی، اس بارے میں تاحال کوئی واضح اور مصدقہ تفصیل سامنے نہیں آئی۔
گرفتاری سے سزائے موت تک کیا ہوا
افراد خاندان کے مطابق، سعودی پولیس نے مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل کے الزام میں نذرالاسلام اور سویٹی اختر کو گرفتار کیا تھا۔ نذرالاسلام تقریباً تین سال اور تین ماہ تک زیر حراست رہا۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ خاندان کو اس کی گرفتاری کے بارے میں معلوم تھا، لیکن وہ یہ نہیں جان سکے کہ اسے کن حالات میں اور کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔
سعودی وزارت داخلہ کے بیان، جسے سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے شائع کیا، کے مطابق، دونوں افراد کو گرفتار کرنے کے بعد تحقیقات کی گئیں، ان کے خلاف الزامات عائد کئے گئے اور معاملہ متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر تعزیری سزا کے تحت سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں متعلقہ عدالتی اتھارٹی نے فیصلے کو برقرار رکھا اور شاہی حکم کے بعد 14 اکتوبر کو مکہ کے علاقے میں سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا۔
تاہم، سعودی حکام کے بیان میں مبینہ فعل کی مکمل نوعیت، متعلقہ مسجد کا نام، گرفتاری کی تفصیلات اور مقدمے کی مکمل کارروائی بیان نہیں کی گئی۔ بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی کہ ملزمین کو وکیل کی سہولت حاصل تھی یا انہیں اپنے دفاع اور اپیل کا مناسب موقع دیا گیا تھا۔
افراد خاندان کو سزائے موت کی پیشگی اطلاع نہیں ملی
دی ڈیلی اسٹار کی 20 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، نذرالاسلام کی والدہ رحیمہ بیگم نے بتایا کہ ان کا بیٹا جیل سے ہر اتوار کو فون پر گھر والوں سے بات کرتا تھا، لیکن سزائے موت سے قبل خاندان کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اہل خانہ کو اس کی موت کا علم ذرائع ابلاغ کی خبروں سے ہوا۔
نذرالاسلام کے والد عبدالبشیر نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے کو بلاجواز سزائے موت دی گئی ہے تو وہ انصاف چاہتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور ان کے بیٹے کی میت سرکاری خرچ پر بنگلہ دیش واپس لانے کے انتظامات کئے جائیں۔
والد کے مطابق، بیٹے کو سعودی عرب بھیجنے کے لئے انہوں نے سات لاکھ ٹکا قرض لیا تھا۔ اب بیٹے کی موت کے بعد قرض خواہوں کی جانب سے رقم کی واپسی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ خاندان نے یہ بھی بتایا کہ نذرالاسلام کی پھوپھی عابدہ بیگم اس کی سزائے موت کی خبر سننے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئیں۔
بنگلہ دیشی حکومت سعودی عرب سے وضاحت کی منتظر
ڈھاکہ ٹریبیون اور دی ڈیلی اسٹار کی رپورٹس کے مطابق، بنگلہ دیشی حکومت کو دونوں شہریوں کی سزائے موت سے قبل باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل خانے نے ذرائع ابلاغ سے خبر ملنے کے بعد سعودی وزارت خارجہ سے تفصیلات طلب کیں۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے دونوں افراد کی شناخت، ان کے پس منظر، سعودی عرب پہنچنے کے وقت اور مقدمے کی تفصیلات کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔ بنگلہ دیشی وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے بھی معلومات کے تبادلے میں ممکنہ کوتاہی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق، سعودی حکام کی جانب سے تفصیلی جواب اور عدالتی فیصلے کی نقل موصول ہونے کے بعد ہی مقدمے اور قانونی کارروائی کے بارے میں مزید وضاحت ہوسکے گی۔



