چاول کی قیمت 100 روپے فی کلو کے قریب، کیا مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے؟

حیدرآباد : روزمرہ ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ پہلے ہی سبزیوں اور خوردنی تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور اب روزانہ کھائے جانے والے چاول کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔
بازار میں معیاری چاول کی قیمت 100 روپے فی کلو کے قریب پہنچ رہی ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ دونوں تلگو ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں زیادہ استعمال ہونے والی چاول کی اقسام سونا مسوری اور بی پی ٹی کی قیمتوں میں گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ سال تک عام سونا مسوری چاول کی قیمت 50 سے 60 روپے فی کلو تھی لیکن اب بازار میں قسم اور معیار کے لحاظ سے اس کی قیمت 75 سے 90 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ پریمیم کوالٹی اور پرانے چاول کی قیمتیں تو 95 روپے سے بھی تجاوز کرتے ہوئے 100 روپے فی کلو کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
موٹے چاول اور دیگر عام اقسام کی قیمتوں میں بھی فی کلو 10 سے 15 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ ایک خاندان کو ماہانہ کم از کم 25 سے 30 کلو چاول کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں صارفین کا کہنا ہے کہ اب صرف چاول خریدنے کے لیے بھی انہیں پہلے سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔ بروقت بارشیں نہ ہونے اور بعض علاقوں میں طوفانوں اور سیلاب کی وجہ سے دھان کی فصل کو نقصان پہنچا،
جس کے نتیجے میں پیداوار میں نمایاں کمی آئی۔اس کے علاوہ کھاد، کیڑے مار ادویات، بیج، مزدوری اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کے باعث چاول کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ چاول ملوں کے مالکان اور تاجروں کا کہنا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر بازار میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔تاہم یہ الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ بعض بڑے تاجر اور مل مالکان پہلے ہی بڑی مقدار میں چاول خرید کر گوداموں میں ذخیرہ کر رہے ہیں
جس سے بازار میں مصنوعی قلت پیدا ہو رہی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔چاول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں ہے بلکہ ہوٹلوں اور کیٹرنگ کا کاروبار کرنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ان کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ چاول کے ساتھ ساتھ گیس اور خوردنی تیل کی قیمتیں بھی زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں کھانے کی پلیٹوں اور ناشتے کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
بازار میں عام چاول کی قیمتیں 100 روپے فی کلو کے قریب پہنچنے کے بعد اب لوگوں کی توجہ سرکاری راشن کے چاول کی طرف بڑھ رہی ہے۔عام آدمی کے لیے 100 روپے فی کلو کے حساب سے چاول خریدنا مالی طور پر مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خاندان بھی اب راشن کی دکانوں کا رخ کر رہے ہیں جو پہلے سرکاری راشن کے چاول نہیں لیتے تھے۔
ماضی میں چاول کے معیار کو غیر تسلی بخش سمجھنے یا دیگر وجوہات کی بنا پر بہت سے راشن کارڈ رکھنے والے افراد چاول لینے سے گریز کرتے تھے۔ بعض لوگ راشن کے چاول حاصل کرنے کے بعد انہیں کم قیمت پر دوسروں کو فروخت بھی کر دیتے تھے لیکن اب بازار میں قیمتوں میں اضافے کے باعث صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے مفت فراہم کیے جانے والے راشن کے چاول کا اب ہر دانہ قیمتی محسوس ہو رہا ہے۔ماضی میں تین ماہ کا راشن ایک ساتھ فراہم کیے جانے کی وجہ سے فی الحال راشن کی دکانوں میں چاول دستیاب نہیں ہیں۔ غریب عوام انتظار کر رہے ہیں کہ سستے داموں راشن فراہم کرنے والی دکانوں پر دوبارہ چاول کب دستیاب ہوں گے۔
عوام حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور چاول کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لائے۔اس کے ساتھ ہی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ بلیک مارکیٹنگ اور چاول کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی پر کڑی نظر رکھی جائے۔ نیز راشن کی دکانوں کے ذریعے معیاری چاول فراہم کیے
جائیں اور ان لوگوں کو بھی سبسڈی کی قیمتوں پر چاول مہیا کیے جائیں جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں تاکہ انہیں بھی مہنگائی سے کچھ راحت مل سکے۔



