دوستوں کے ساتھ بیوی کا گینگ ریپ، حیدرآباد کے پرانے شہر سے روہنگیا کے تین باشندے گرفتار

حیدرآباد: کنچن باغ پولیس نے 18 سالہ خاتون کی شکایت پر جنسی زیادتی غیر قانونی طور پر محروس رکھنے اور مجرمانہ دھمکیاں دینے کے معاملے میں تین ملزمین کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس کے مطابق میانمار/بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون مئی 2026 میں محمد فیاض نامی شخص کے ساتھ حیدرآباد آئی تھی۔ فیاض نے مبینہ طور پر اس سے شادی کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد قاضی کے ذریعہ ان کی شادی انجام پائی۔ دونوں حافظ بابا نگر کے کیمپ نمبر 21 میں واقع ایک کرایہ کے مکان میں رہنے لگے۔
خاتون نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ کچھ عرصے بعد اس کے شوہر نے اپنے تین ساتھیوں نور کمال، احمد مجیب اور ضیاء الرحمٰن عرف ابراہیم کو بھی مکان میں ٹھہرایا۔ شکایت کے مطابق شوہر گھر سے باہر جاتے وقت مکان کو باہر سے مقفل کردیتا تھا۔ اس دوران مختلف مواقع پر اس کے ساتھیوں نے خاتون کی مرضی کے خلاف جنسی زیادتی کی اور کسی کو واقعہ بتانے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں۔
پولیس کے مطابق 23 اکتوبر کو رات تقریباً 10 بجے مکان مالک بقایا کرایہ وصول کرنے کے لیے وہاں پہنچا۔ مکان کو باہر سے مقفل دیکھ کر اس نے تالا توڑ دیا جس کے بعد متاثرہ خاتون نے اپنے افراد خاندان سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں اسے بالاپور کی رائل کالونی میں واقع اس کے ایک رشتہ دار کے گھر منتقل کیا گیا۔
26 اکتوبر کو متاثرہ خاتون نے کنچن باغ پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کروائی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردیں۔پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں چار ملزمین میں سے نور کمال، احمد مجیب اور ضیاء الرحمٰن عرف ابراہیم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اصل ملزم متاثرہ کا شوہر فراری میں ہے۔




