امریکی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی تاریخ ساز کامیابیاں، عبدل السید پہلے مسلم سینیٹر منتخب
حیدراباد 4 نومبر (اردو لیکس ڈیسک) امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں عرب اور مسلم امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے امریکی سیاست میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔ دی نیو عرب کی رپورٹ کے مطابق مصری نژاد ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید مشیگن سے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر منتخب ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم سات مسلم امیدوار امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہوئے، جن میں ایک سینیٹر اور ایوانِ نمائندگان کے چھ ارکان شامل ہیں۔ نیو جرسی کے 12ویں کانگریشنل ضلع سے مصری نژاد سرجن ڈاکٹر آدم حماوی کامیاب ہوئے، جو اس ریاست سے کانگریس میں منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہیں۔
فلسطینی نژاد رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے مشیگن سے پانچویں مرتبہ کامیابی حاصل کی، جبکہ صومالی نژاد الہان عمر بھی مینیسوٹا سے پانچویں مرتبہ منتخب ہوئیں۔ ڈومینیکن نژاد داریا لیزا اویلا شیولیئر نیویارک سے کامیاب ہوکر کانگریس کی پہلی لاطینی مسلم خاتون بن گئیں۔ اس کے علاوہ آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن نے بھی ایوانِ نمائندگان کی اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔
ریاستی قانون ساز ایوانوں میں بھی مسلم اور عرب نژاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ نیویارک سے فلسطینی نژاد ابر کواس، مشیگن سے لبنانی نژاد عباس علویہ اور الینوائے سے ہندوستانی نژاد مسلم امیدوار نبیلہ سید منتخب ہوئیں۔ پاکستانی نژاد سلمان بھوجانی اور سلیمان لالانی نے بھی ٹیکساس میں دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں دیگر مسلم امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔
دستیاب ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 9 مسلم امیدوار امریکی کانگریس اور مختلف ریاستی سینیٹوں کے لیے منتخب ہوئے ہیں، جبکہ ریاستی قانون ساز ایوانوں کے دیگر کامیاب امیدواروں کو شامل کرنے پر مجموعی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ انتخابی نتائج سے امریکی سیاست میں مسلم اور عرب نژاد نمائندوں کی موجودگی میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔ کامیاب امیدواروں کی تعداد ابتدائی رپورٹس پر مبنی ہے، حتمی مجموعی تعداد نہیں۔




