امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، ڈیموکریٹس کو بھاری اکثریت
اردولیکس ڈیسک 4 نومبر: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بڑا جھٹکا لگ رہا ہے۔ انتخابی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی بھاری اکثریت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں پہلے ہی برتری حاصل کرلی ہے، جبکہ ایوان نمائندگان میں بھی 218 نشستوں کے اکثریتی نشان کو عبور کرلیا ہے۔ دوسری جانب ریاست کنساس میں 94 سال بعد ریپبلکن پارٹی کا مضبوط قلعہ منہدم ہوگیا اور سینیٹ کی نشست ڈیموکریٹس کے حصے میں آگئی۔
کنساس میں ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن نے برسوں سے قائم ریپبلکن پارٹی کی بالادستی ختم کرتے ہوئے موجودہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ وہ 1939 کے بعد ریاست سے ڈیموکریٹک پارٹی کے پہلے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔
ادھر امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جینیس لیوس جارج نئی میئر منتخب ہوئی ہیں۔ وہ 2 جنوری کو میئر کے عہدے کا حلف لیں گی۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے واشنگٹن کو کمیونسٹوں کے حوالے نہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وہ دارالحکومت میں ڈیموکریٹس کی کامیابی روکنے میں ناکام رہے۔
اس سے قبل نیویارک کے میئر کے انتخاب میں ظہران ممدانی کی کامیابی کو بھی ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا گیا تھا۔ جینیس لیوس جارج نے ممدانی کی جانب سے پیش کردہ مفت عوامی ٹرانسپورٹ اور ہر شہری کے لیے قابل رسائی رہائش جیسی پالیسیوں کو واشنگٹن میں نافذ کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ اسی وجہ سے سیاسی تجزیہ کار انہیں ’’ڈی سی ممدانی‘‘ قرار دے رہے ہیں۔




