دولت کے چراغ جلتے رہے، رشتوں کے چراغ بجھتے رہے

از جمیل احمد، ریاض سعودی عرب

“تم نے مستقبل سنوارا، مگر اپنے آج کو تنہا کر دیا” – انسان جب دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ تنہا نہیں ہوتا وہ ایک خاندان میں پیدا ہوتا ہے، جہاں ماں کی ممتا، باپ کی شفقت، دادا دادی کی دعائیں، نانا نانی کی محبت، بھائی بہنون ساتھ اور رشتہ داروں کی قربت اس کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس کی چھوٹی سی دنیا میں خوشیوں کے کتنے ہی رنگ ہوتے ہیں۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ مستقبل کی فکر کیا ہے، زندگی کی دوڑ کیا ہے اور تنہائی کا عذاب کیا ہوتا ہے۔ اسے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ماں پکار رہی ہے، باپ انتظار کر رہا ہے، بہن بھائی کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور شام ہوتے ہی دوست اور کھیل کے میدان وہ اسکول جاتا ہے، واپس آتا ہے، محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے، گلیوں میں دوڑتا ہے، کرکٹ اور فٹ بال کھیلتا ہے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں نانا نانی، دادا دادی، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ کے گھر جانے کا انتظار کرتا ہے۔
عید آتی ہے تو پورا خاندان جمع ہوتا ہے۔ کسی کے گھر شادی ہو تو سب خوشی میں شریک ہوتے ہیں، کوئی بیمار ہو جائے تو سب عیادت کے لیے آتے ہیں، پریشانی رشتہ دار و احباب سہارا بنتے ہیں۔یہ صرف زندگی نہیں، یہ رشتوں کی دولت ہے۔ جسے بازار سے خریدا نہیں جا سکتا ہے۔اسی احساس کو علامہ اقبال نے اپنی نظم «عہدِ طفلی» میں یادوں اور بچپن کی دنیا کے ذریعے بیان کیا ہے۔ بچپن کی وہ بے فکری، وہ معصوم خوشیاں اور وہ گزرے ہوئے دن انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔
آج انسان کے پاس بڑی گاڑیی، مکان، اچھی ملازمت اور مالی آسائشیں تو ہو سکتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے پاس وہ لوگ بھی ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر وہ اپنے دل کا بوجھ اتار سکے؟ہم نے زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش میں کہیں زندگی کو ہی تو نہیں کھو دیا؟
*1۔ اولاد کے روشن مستقبل کی فکر، مگر اپنے بڑھاپے کی تنہائی کا خیال نہیں*
آج والدین اپنی اولاد کے لیے بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچے بہترین تعلیم حاصل کریں، اچھی ملازمت کریں، ترقی کریں اور ایسی زندگی گزاریں جو شاید وہ خود نہیں گزار سکے۔
یہ خواہش غلط نہیں۔ اولاد کو تعلیم دلانا، انھیں ہنرمند بنانا اور اس کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنا والدین کی اولین کوشش ہوتی ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مستقبل سنوارنے کی کوشش میں خاندان کی موجودہ زندگی بکھرنے لگتی ہے۔
والدین بچے کو بیرونِ ملک بھیجتے ہیں۔ پہلے تعلیم کے لیے، پھر ملازمت کے لیے، پھر مستقل رہائش کے لیے۔ وہاں اس کے دوست بنتے ہیں، زندگی کا نظام قائم ہوتا ہے، شادی ہو جاتی ہے، بچے پیدا ہوتے ہیں اور ایک نئی دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ اپنے وطن میں رہنے والے والدین کی دنیا اور بیرونِ ملک آباد اولاد کی دنیا الگ ہو جاتی ہے۔فون پر بات ہوتی ہے، کبھی ویڈیو کال ہو جاتی ہے، عید پر پیغام آ جاتا ہے، کبھی سال میں ایک مرتبہ ملاقات بھی ہو جاتی ہے۔ بعض بچے باقاعدگی سے والدین کی مالی مدد کرتے ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں، جبکہ بعض خاندانوں میں رابطہ بہت کم رہ جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: پیسہ بھیجنا والدین کی مدد ہے، لیکن والدین کی ہر ضرورت صرف پیسے سے پوری نہیں ہوتی۔پیسے بھیج دینے سے والدین کے خدمت کی ذمہ داری پوری نہین ہوتی۔ بوڑھے باپ کو کبھی اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کی خواہش ہوتی ہے۔ ماں چاہتی ہے کہ بیٹی اس کے پاس بیٹھے اور اس کی پرانی باتیں سنے۔ کبھی والدین بیمار ہوتے ہیں تو انہیں دوا کے ساتھ کسی اپنے کی موجودگی اور حوصلے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
کبھی وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی پوچھ لے
امی! آج طبیعت کیسی ہے؟ ابا! کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ میں آپ سے ملنے آ جاؤں؟
یہ چند الفاظ بھی دل کو وہ سکون دے سکتے ہیں جو بڑی سے بڑی مالی آسائش نہیں دے سکتی۔
ذرا اس ماں کا تصور کیجیے جس نے اپنی پوری زندگی بچوں کی پرورش میں گزار دی۔ ان کی بیماریوں میں راتیں جاگ کر گزاریں، ان کی خوشی کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کیں۔ آج اس کے پاس وقت ہے، مگر بچے مصروف ہیں۔ گھر ہے، مگر بچوں کی آوازیں نہیں اور اس باپ کو دیکھیے جس نے اولاد کے مستقبل کے لیے اپنی جوانی محنت میں گزار دی۔ آج وہ عمر کے اس حصے میں ہے جب اسے کسی سہارے، کسی ساتھی اور کسی اپنے کی ضرورت ہے۔ مگر اب وہ بازار خود جاتا ہے، گھر کے کام خود کرتا ہے اور بیماری میں ہسپتال جانے کا انتظام بھی خود کرتا ہے۔اس کی اولاد شاید اس سے محبت کرتی ہو، لیکن محبت کا احساس صرف دل میں رکھنے سے نہیں، اس کا اظہار کرنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے بھی ہوتا ہے۔اولاد کا کامیاب ہو جانا والدین کی خوشی ہے، لیکن اولاد کا اپنے والدین کے لیے وقت نکالنا ان کے دل کا سکون ہے۔
*2۔ قرآن کا پیغام: رشتوں کے حقوق ادا کرنا بھی آخرت کی تیاری ہے*
اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ دنیا حاصل کرنے کے لیے آخرت کو بھول جاؤ۔ اسلام یہ بھی نہیں کہتا کہ مال و دولت، تعلیم، کاروبار اور ترقی چھوڑ کر دنیا سے الگ ہو جاؤ۔ اسلام ہمیں توازن سکھاتا ہے دنیا میں رہو، محنت کرو، حلال روزی کماؤ، اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرو، مگر اللہ کے احکام اور آخرت کی جواب دہی کو نہ بھولو۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
سورۃ القصص، آیت 77
*وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللّٰهُ إِلَيْكَ*
ترجمہ: اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر حاصل کرنے کی کوشش کرو، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھولو، اور لوگوں کے ساتھ احسان کرو جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے۔
یہ آیت ہماری زندگی کا راستہ واضح کرتی ہے۔ دنیا کی ضروریات پوری کرو، مگر آخرت کو مقصدِ زندگی سے خارج نہ کرو۔ اللہ نے جو مال، صحت، وقت، صلاحیت اور مواقع دیے ہیں، ان سے نیکی کرو اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
یہاں ایک بہت اہم بات سمجھنے کی ہے: دنیا کمانا آخرت کو کھونا نہیں، بلکہ دنیا کی خاطر اللہ کے احکام، بندوں کے حقوق اور آخرت کی جواب دہی کو بھول جانا نقصان کا راستہ ہے۔
اگر کوئی شخص دولت کماتا ہے، مگر والدین کے حقوق ادا کرتا ہے، رشتہ داروں کی مدد کرتا ہے، بیوی بچوں کے ساتھ انصاف کرتا ہے، غریبوں کا خیال رکھتا ہے اور اپنی کمائی حلال رکھتا ہے تو اس کی دنیاوی محنت بھی نیکی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص مال و دولت جمع کرنے میں اس قدر مصروف ہو جائے کہ والدین کو بھول جائے، رشتہ داروں کے حقوق پامال کرے، لوگوں کو تکلیف دے، جھوٹ بولے، دھوکا دے اور اپنے فرائض سے غافل ہو جائے تو اسے اپنی کامیابی کے معنی پر غور کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
سورۃ التکاثر، آیات 1–2
**أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ*
ترجمہ: تمہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی طلب نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ مال، تعداد، مقابلے اور دنیاوی برتری کی دوڑ انسان کو اصل مقصد سے غافل کر سکتی ہے۔ انسان ساری زندگی جمع کرتا رہتا ہے، لیکن ایک وقت آتا ہے جب اسے یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہوتا ہے۔
ہم اپنے ساتھ گھر، گاڑی، بینک کا بیلنس اور عہدہ نہیں لے جاتے۔ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ جاتے ہیں۔ ہم نے اللہ کے حقوق کس طرح ادا کیے، بندوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، کس کا حق مارا اور کس کی مدد کی، یہ سب ہماری زندگی کے اہم سوالات ہیں۔
اسی لیے قرآن ہمیں دنیا سے بھاگنے کے بجائے دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی فکر کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
*3۔ والدین کے حقوق: قرآن کی وہ تعلیم جسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے*
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
سورۃ الإسراء، آیات 23–24
*فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْرًا*
ترجمہ: ان سے اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کرو۔ اور ان کے سامنے محبت اور رحمت کے ساتھ عاجزی اختیار کرو، اور دعا کرو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔
القرآن الكريم
*ذرا اس آیت کے آخری حصے پر غور کیجیے: جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔*
بچپن میں ہم اپنے والدین کے محتاج تھے۔ ہم خود کھانا نہیں بنا سکتے تھے، اپنی بیماری کا علاج نہیں کر سکتے تھے اور اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے تھے۔ والدین نے ہماری کمزوریوں کو برداشت کیا، ہماری غلطیوں کو معاف کیا اور ہماری پرورش کی۔
پھر وقت بدل گیا۔ ہم بڑے ہو گئے، کمانے لگے، اپنے فیصلے خود کرنے لگے اور اپنی اولاد کے مستقبل کی فکر میں مصروف ہو گئے۔ لیکن کیا ہمارے والدین کی ضروریات ختم ہو گئیں؟
نہیں! عمر بڑھنے کے ساتھ بعض ضروریات کم نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں عزت، توجہ، جذباتی سہارا، صحت کی دیکھ بھال اور اپنوں کی قربت کی زیادہ ضرورت ہو سکتی ہے۔
علامہ اقبال نے اپنی نظم «ماں کا خواب» میں ماں اور بیٹے کی جدائی کے احساس کو بڑے درد سے بیان کیا ہے۔ نظم میں ماں اپنے بیٹے کو اپنے سے دور دیکھ کر بے قراری ظاہر کرتی ہے۔ اس نظم کا بنیادی احساس ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ والدین کی جدائی اور ان کی محبت کو معمولی بات سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہئیے۔
والدین زندہ ہیں تو ان کی قدر کیجیے۔ ان کے پاس بیٹھیے، ان کی باتیں سنیے، ان کے ساتھ کھانا کھائیے، انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیے۔ اور اگر وہ دنیا سے جا چکے ہیں تو ان کے لیے دعا کیجیے اور ان کے ساتھ نیکی کے تعلق کو ان کے بعد بھی زندہ رکھیے۔
*4۔ رشتہ داروں سے تعلق توڑنا معمولی بات نہیں*
آج ہم اپنی زندگی کو اپنے گھر، کام، تنخواہ اور ذاتی مصروفیات تک محدود کرتے جا رہے ہیں۔ کبھی کسی بھائی سے جائیداد کا جھگڑا ہو جاتا ہے، کسی بہن کی بات بری لگ جاتی ہے، کسی رشتہ دار سے اختلاف ہو جاتا ہے، اور پھر ہم فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اب اس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا۔
رفتہ رفتہ ایک گھر دو حصوں میں، ایک خاندان کئی گروہوں میں اور ایک محبت کا رشتہ دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
سورۃ محمد، آیت 22
*فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ*
ترجمہ: تو کیا تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تمہیں اختیار مل جائے تو تم زمین میں فساد کرو گے اور اپنے رشتے ناتے کاٹ دو گے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ*
ترجمہ: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھے۔
(صحیح بخاری، )
اس تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان میں ہر اختلاف کو نظرانداز کیا جائے یا ظلم اور بدسلوکی برداشت کرنا لازم ہے۔ جہاں نقصان کا اندیشہ ہو، وہاں مناسب حدود قائم کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن معمولی اختلاف، انا، حسد اور بدلے کی خاطر تمام تعلقات ختم کر دینا ایک بڑی محرومی ہے۔
صلہ رحمی کا مطلب ہے کہ انسان رشتوں کو جوڑنے کی کوشش کرے، ضرورت کے وقت مدد کرے، ناراضی کم کرنے کی کوشش کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق تعلق قائم رکھے۔
کبھی ایک فون کال برسوں کی ناراضی کم کر دیتی ہے۔ کبھی کسی بیمار رشتہ دار کی عیادت دلوں کو قریب کر دیتی ہے۔ کبھی کسی ضرورت مند کی خاموش مدد خاندان میں محبت کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء، آیت 36 میں اپنی عبادت کے ساتھ والدین اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی زندگی میں انسانوں کے حقوق کی کتنی اہمیت ہے۔ القرآن الكريم
رشتے صرف خون کے تعلق سے نہیں نبھتے، انہیں اخلاق، محبت، انصاف اور ذمہ داری سے زندہ رکھنا پڑتا ہے۔
*5۔ دنیا کی کامیابی یا آخرت کی کامیابی؟*
ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا مستقبل بہتر ہو، اس کے بچے خوش حال ہوں، گھر میں سہولتیں ہوں اور معاشرے میں عزت و مقام حاصل ہو۔ یہ سب جائز خواہشات ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کی کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سورۃ البقرہ، آیت 201
*رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ*
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
یہ دعا ہمیں دونوں جہانوں کی بھلائی مانگنا سکھاتی ہے۔ ہمیں دنیا بھی چاہیے اور آخرت بھی۔ ہمیں حلال روزی بھی کمانی ہے اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی بھی گزارنی ہے۔
اگر ایک شخص اپنی ساری زندگی دولت جمع کرنے میں گزار دے، مگر اس دوران والدین کے حقوق بھول جائے، رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کرے، کسی کا حق مارے اور لوگوں کو تکلیف دے، تو اسے سوچنا چاہیے کہ اس نے کیا حاصل کیا اور کیا کھو دیا؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہےسورۃ الزلزال، آیات 7–8
*فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ*
ترجمہ: پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی، وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
ہماری زندگی کا ہر عمل اہم ہے۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، والدین کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، کسی رشتہ دار کی پریشانی دور کرنا، کسی کے دل کو خوش کرنا اور کسی کے حق کی حفاظت کرنا نیکی کے کام ہیں۔ اس کے برعکس ظلم، دھوکا، حق تلفی اور بدسلوکی ایسے اعمال ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔
یاد رکھیے، کسی کا حق ادا کرنا، اس کے ساتھ انصاف کرنا اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا آخرت کی تیاری کا حصہ ہے۔ دنیاوی ترقی اگر نیکی کے راستے پر ہو تو وہ آخرت کے لیے بھی فائدہ مند بن سکتی ہے۔
ہم دنیا بنانے میں اتنے مصروف نہ ہو جائیں کہ آخرت بنانے والے اعمال ہی پیچھے رہ جائیں۔
*6۔ خاندان ایک درخت ہے، جس کی جڑیں مضبوط رہنی چاہییں*
ایک درخت کا تصور کیجیے۔ اس کی جڑیں زمین میں پھیلی ہوتی ہیں، تنا مضبوط ہوتا ہے اور شاخیں مختلف سمتوں میں نکلتی ہیں۔ ہر شاخ اپنی جگہ پتے اور پھل پیدا کرتی ہے، لیکن سب کا تعلق ایک ہی جڑ سے ہوتا ہے۔ خاندان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔
بیٹا تعلیم کے لیے بیرونِ ملک چلا جائے، بیٹی شادی کرکے دوسرے شہر میں آباد ہو جائے، بھائی ملازمت کے سلسلے میں الگ گھر بنا لے، تو اس میں بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ زندگی کے تقاضے انسانوں کو مختلف جگہوں پر لے جا سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان سب کے دل ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں؟ کیا والدین کی خبر لی جاتی ہے؟ کیا بہن بھائی ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں؟ کیا رشتہ داروں کے حقوق ادا ہوتے ہیں؟ کیا بچوں کو اپنے خاندان کی پہچان، محبت اور تاریخ سے واقف کرایا جاتا ہے؟
اگر شاخیں دور نکل گئی ہیں لیکن جڑوں کو پانی مل رہا ہے تو درخت زندہ رہ سکتا ہے۔ اسی طرح فاصلے ہونے کے باوجود خاندان محبت، رابطے اور ذمہ داری کے ذریعے متحد رہ سکتا ہے۔
علامہ اقبال کا مشہور شعر اسی خیال کو ایک وسیع تر اجتماعی معنی دیتا ہے:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
اس شعر کا اصل موضوع ملت اور اجتماعیت ہے، مگر اس سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ انسان کے تعلقات، اس کا تعاون اور دوسروں کے ساتھ اس کی وابستگی اس کی زندگی کو معنی دیتے ہیں۔
ہمیں اپنی اولاد کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ بڑے ہو کر بہت پیسہ کمانا ہے؛ ہمیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ بڑا ہو کر اچھا انسان بننا ہے، رشتے نبھانے ہیں، والدین کی قدر کرنی ہے اور اپنے خاندان کے لیے آسانی پیدا کرنی ہے۔
*7۔ موبائل نے دنیا قریب کر دی، مگر کہیں دلوں کو دور تو نہیں کر دیا؟*
آج ہمارے ہاتھ میں موبائل ہے جس کے ذریعے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے بات کر سکتے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے انسان کو دیکھ سکتے ہیں، اس کی آواز سن سکتے ہیں اور چند لمحوں میں پیغام پہنچا سکتے ہیں۔
لیکن ایک عجیب حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی اسی موبائل کے ذریعے ہم پوری دنیا سے جڑے ہوتے ہیں، مگر اپنے ہی گھر میں بیٹھے والدین سے بات کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔
ایک ہی گھر میں چار افراد بیٹھے ہیں، لیکن چاروں کی نظریں چار مختلف اسکرینوں پر ہیں۔ باپ موبائل میں مصروف ہے، ماں سوشل میڈیا دیکھ رہی ہے، بیٹا گیم کھیل رہا ہے اور بیٹی اپنے دوستوں سے بات کر رہی ہے۔ سب ایک چھت کے نیچے ہیں، مگر ہر شخص اپنی الگ دنیا میں رہ رہا ہے۔
پہلے شام ہوتی تھی تو گھر کے لوگ ایک جگہ جمع ہوتے تھے۔ دن بھر کی باتیں ہوتیں، ہنسی مذاق ہوتا، بچوں کے قصے سنے جاتے اور بزرگ اپنی زندگی کے تجربات سناتے تھے۔
آج بعض گھروں میں یہ محفل ختم ہو گئی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے ایک دوسرے کو اسٹیٹس پر دیکھتے ہیں۔ ماں کی آواز سننے کے بجائے اس کی تصویر پر ردعمل دیتے ہیں۔ بھائی کے پاس بیٹھنے کے بجائے اس کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہیں۔
موبائل بذاتِ خود برا نہیں ہے۔ یہ فاصلے کم کرنے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے، لیکن جب یہ حقیقی تعلقات کی جگہ لے لے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
ویڈیو کال ماں کا چہرہ دکھا سکتی ہے، لیکن ہر موقع پر ماں کے پاس بیٹھنے کی قربت کا متبادل نہیں بن سکتی۔ پیغام محبت کا اظہار کر سکتا ہے، مگر محبت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے وقت اور عمل بھی ضروری ہیں۔
اس لیے گھر میں ایک دوسرے کے لیے وقت نکالیے۔ کھانے کے وقت موبائل ایک طرف رکھیے۔ والدین سے ان کی زندگی کے بارے میں پوچھیے۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں، بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھیں اور رشتہ داروں سے ملاقات کریں۔
انسان کو صرف رابطے کی سہولت نہیں، تعلق کی گرمی بھی چاہیے۔
*8۔ بیرونِ ملک تعلیم اور ملازمت غلط نہیں، رشتوں کو بھول جانا نقصان ہے*
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا، اچھی ملازمت کے لیے دوسرے ملک جانا یا اپنی اولاد کو بہتر مواقع فراہم کرنا بذاتِ خود غلط نہیں ہے۔
بہت سے بچے بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنے والدین کی بہترین خدمت کرتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں، مالی مدد کرتے ہیں، والدین کو اپنے پاس بلاتے ہیں، ان کی صحت اور ضروریات کا انتظام کرتے ہیں اور مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
اس لیے مسئلہ ملک کا فاصلہ نہیں، دلوں کا فاصلہ ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کو کس طرح کی کامیابی سکھائی ہے؟
کیا ہم نے صرف یہ بتایا کہ اچھی ڈگری حاصل کرو، بڑی کمپنی میں ملازمت کرو، بڑا گھر خریدو اور زیادہ پیسہ کماؤ؟ یا ہم نے یہ بھی سکھایا کہ والدین کے حقوق ادا کرنا، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور کسی کی ضرورت کے وقت اس کے کام آنا بھی کامیاب زندگی کا حصہ ہے؟
اگر ہم بچوں کو صرف ترقی کا راستہ دکھائیں گے اور ذمہ داری کا شعور نہیں دیں گے تو ممکن ہے وہ اپنے پیشے میں بہت کامیاب ہو جائیں، مگر خاندانی زندگی میں کمزور پڑ جائیں۔
اسی طرح اگر ہم انہیں محبت تو دیں، لیکن خود اپنے والدین اور رشتہ داروں کے حقوق ادا نہ کریں، تو ہماری نصیحت کا اثر بھی کم ہو سکتا ہے۔ بچے صرف ہماری باتوں سے نہیں، ہمارے رویوں سے بھی سیکھتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي*
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔
(جامع ترمذی، حدیث 3895)
یہ حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ انسان کی اچھائی کا اندازہ صرف اس کی بیرونی کامیابی سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے گھر والوں کے ساتھ اس کے رویے سے بھی ہوتا ہے۔
ہمیں اپنی اولاد کو دنیا میں آگے بڑھنے کے قابل بھی بنانا ہے اور اپنے رشتوں کو سنبھالنے کے قابل بھی۔
*9۔ تنہائی: جب گھر تو ہوتا ہے، مگر گھر والے نہیں ہوتے*
تنہائی ہمیشہ اس بات کا نام نہیں کہ انسان کے آس پاس کوئی شخص موجود نہ ہو۔ کبھی ایک انسان لوگوں کے درمیان بیٹھ کر بھی تنہا ہوتا ہے، اور کبھی اکیلے رہتے ہوئے بھی مطمئن ہوتا ہے۔
لیکن جب تنہائی انسان پر مسلط ہو جائے، جب اسے اپنی تکلیف بیان کرنے کے لیے کوئی اپنا نہ ملے، جب بیماری میں مدد کے لیے کسی کو بلانا مشکل ہو، جب اس کی بات سننے والا کوئی نہ ہو اور جب زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹنے کے لیے قریبی لوگ میسر نہ ہوں، تو یہ کیفیت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
تصور کیجیے کہ ایک عمر رسیدہ شخص صبح اٹھتا ہے۔ خود ناشتہ بناتا ہے، گھر کی صفائی کرتا ہے، بازار سے سودا لاتا ہے اور دوا خریدتا ہے۔ اس کے بچے اپنی زندگی میں مصروف ہیں، دوستوں میں سے کئی دنیا سے جا چکے ہیں، کچھ بیمار ہیں اور کچھ دور آباد ہیں۔
شام کو وہ گھر واپس آتا ہے تو دروازہ کھولنے پر کوئی آواز نہیں آتی۔ کھانا کھاتا ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ آج دن کیسا گزرا۔ رات کو طبیعت خراب ہوتی ہے تو وہ خود کو سنبھالتا ہے۔ کبھی دل گھبراتا ہے تو موبائل اٹھاتا ہے، مگر سمجھ نہیں آتا کہ کس کو فون کرے۔
یہ صورتِ حال ہر بیرونِ ملک رہنے والے والدین کی نہیں، لیکن ایسے تجربات بعض خاندانوں میں حقیقت بن جاتے ہیں۔
اور پھر ایک دن وہ شخص سوچتا ہے:
میں نے اپنی زندگی میں کتنی محنت کی! بچوں کے لیے کمایا، ان کی تعلیم پر خرچ کیا، ان کے مستقبل کے خواب دیکھے، ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کیں۔ لیکن آج میرے پاس سہولتیں تو ہیں، مگر وہ محفل نہیں جس میں بیٹھ کر اپنے دل کی بات کہہ سکوں۔
اس مقام پر ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہماری کامیابی کا مطلب صرف مالی خودمختاری تھا؟ کیا ہم نے اپنی زندگی میں رشتوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی کوئی منصوبہ بنایا تھا؟
ہم گھر بنانے کے لیے برسوں محنت کرتے ہیں، مگر گھر میں محبت قائم رکھنے کے لیے روزانہ چند منٹ بھی نہیں نکالتے۔ ہم بچوں کی فیس کے لیے رقم جمع کرتے ہیں، مگر ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا وقت نہیں نکالتے۔
تنہائی سے بچنے کا حل یہ نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف اپنے پاس روک لیں۔ حل یہ ہے کہ ہم ایسے تعلقات تعمیر کریں جن میں محبت بھی ہو، ذمہ داری بھی ہو اور ایک دوسرے کی زندگی میں حقیقی دلچسپی بھی۔
کسی بزرگ کے بچے دور رہتے ہیں تو خاندان کو ان کی مدد کے لیے عملی انتظام کرنا چاہیے۔ باقاعدہ رابطہ، ضروری اخراجات، علاج، ہنگامی صورتِ حال میں مدد اور ممکن ہو تو باقاعدہ ملاقاتوں کا نظام بنانا چاہیے۔ خاندان کے دوسرے افراد، پڑوسی اور دوست بھی ایک دوسرے کے لیے سہارا بن سکتے ہیں۔
کسی بزرگ کی تنہائی کو اس کی قسمت سمجھ کر چھوڑ دینا نہیں چاہیے؛ جہاں ممکن ہو، محبت اور تعاون کے ذریعے اس کی زندگی میں آسانی پیدا کرنی چاہیے۔
*10۔ معروف شاعر کی آواز میں رشتوں کی اہمیت*
رشتوں کی قدر، خاندان کی قربت اور اپنے لوگوں کے ساتھ جڑے رہنے کا احساس صرف ہماری ذاتی سوچ نہیں، بلکہ اردو شاعری کا بھی اہم موضوع رہا ہے۔
شاعرہ عذرا نقوی نے خاندان اور رشتوں کے تحفظ کی خواہش کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
معتبر سے رشتوں کا سائبان رہنے دو
مہرباں دعاؤں میں خاندان رہنے دو
مضمحل سے بام و در خستہ حال دیواریں
باپ کی نشانی ہے وہ مکان رہنے دو
پھیلتے ہوئے شہرو اپنی وحشتیں روکو
میرے گھر کے آنگن پر آسمان رہنے دو
عذرا نقوی، غزل۔
کتنا خوب صورت پیغام ہے! خاندان کو صرف نام کا خاندان نہ رہنے دیجیے، بلکہ اسے محبت، دعاؤں اور ایک دوسرے کی خیرخواہی کا سایہ بنائے رکھیے۔
اور علامہ اقبال کی نظم «بچے کی دعا» کے یہ اشعار بھی یاد رکھنے کے قابل ہیں:
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
یہ اشعار ہمیں بتاتے ہیں کہ اچھی زندگی صرف اپنی ذات کے لیے جینے کا نام نہیں۔ کمزوروں کا سہارا بننا، بزرگوں سے محبت کرنا اور دوسروں کے دکھ درد کا خیال رکھنا بھی انسان کی خوبی ہے۔
خاندان میں والدین، بزرگ، بچے، بیمار اور ضرورت مند افراد ہوتے ہیں۔ جب ہر شخص صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچنے لگتا ہے تو خاندان کی اصل روح کمز



