7 ہزار کیلئے بھائی اور بھابھی کا قتل۔ 4 معصوم بچے یتیم یسیر ہوگئے۔ حیدرآباد دوہرے قتل واقعہ کی تحقیقات میں انکشاف

حیدرآباد: نور خان بازار واقعہ کی تحقیقات کے دوران یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ صرف سات ہزار روپے کے قرض کے معمولی تنازع پر ایک سنگدل شخص نے اپنے ہی چھوٹے بھائی اور اس کی اہلیہ کو بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ مقتولہ چار ماہ کی حاملہ تھی۔ سنسنی خیز قتل کی یہ واردات میر چوک پولیس اسٹیشن کی حدود میں کل پیش آئی۔میر چوک پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع سلطان پورہ میں مقیم اقبال احمد اور غوثیہ بیگم
کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا عادل خان پیشے سے کیب ڈرائیور ہے جبکہ تیسرا بیٹا عقیل خان (35 سال) الیکٹریشن کا کام کرتا تھا۔ عقیل خان اپنی بیوی اجمیرہ بیگم (30 سال) کے ساتھ نور خان بازار میں رہتا تھا۔ ان کے چار
بچے (دو بیٹیاں اور دو بیٹے) ہیں۔تقریباً آٹھ ماہ قبل عقیل خان نے ضرورت پڑنے پر اپنے بڑے بھائی عادل خان سے 7,000 روپے ادھار لیے تھے۔ تاہم وہ مقررہ وقت پر رقم واپس نہیں کر سکا جس کی وجہ سے عادل خان اکثر عقیل سے جھگڑا
کرتا رہتا تھا۔پیر کی شام تقریباً 6 بجے عادل خان، عقیل کے گھر پہنچا اور رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ عقیل نے جواب دیا کہ اس وقت اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اور وہ کچھ دنوں بعد دے دے گا۔ اس بات پر دونوں میں تکرار بڑھ گئی اور طیش
میں آکر عادل خان نے اپنے پاس موجود تیز دھار ہتھیار سے عقیل پر حملہ کر دیا۔ جب عقیل کی بیوی اجمیرہ بیگم نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو عادل نے اس کے حاملہ ہونے کا لحاظ کیے بغیر اس کا بھی گلا کاٹ دیا اور پیٹ میں چاقو گھونپ
دیا۔ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میاں بیوی دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے۔واردات کے فوراً بعد عادل خان چاقو وہیں پھینک کر فرار ہو گیا معلوام ہوا ہے کہ پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ اطلاع ملتے
ہی انچارج ڈی سی پی راجیش اور میر چوک پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔



