تلنگانہ

حیدرآباد: آم کھانے کے بعد دو بہنوں کی ہلاکت – پولیس کی تفتیش تیز، فوڈ سیفٹی زاویہ سے بھی جانچ جاری

حیدرآباد: ناران گوڑہ پولیس نے آم کھانے کے بعد دو بہنوں کی ہلاکت کے واقعہ کی تفتیش تیز کر دی ہے۔ اس افسوسناک واقعہ میں بھوانیشوری (17) اور سندھیہ (10) شدید علیل ہونے کے بعد اسپتال میں زیر علاج تھیں، تاہم دورانِ علاج دونوں جانبر نہ ہو سکیں۔

 

پولیس کے مطابق اس واقعہ کی سنگینی کے پیش نظر حیدرآباد پولیس کمشنر سی وی سجنار نے مکمل اور جامع تحقیقات کے احکامات جاری کئے ہیں۔

 

ابتدائی معلومات کے مطابق کرناٹک کے بیدر سے تعلق رکھنے والا وائیجناتھ اور ان کی اہلیہ اندومتی کچھ عرصہ قبل روزگار کی تلاش میں حیدرآباد آئے تھے۔ اندومتی کی رشتہ دار رینوکا نے حال ہی میں ناراین گوڑہ واٹر ٹینک کے قریب سے تقریباً دو کلو آم خریدے تھے، جو بعد ازاں گھر لے جا کر کھائے گئے۔

 

اطلاعات کے مطابق اندومتی اور ان کی چار بیٹیوں نے وہ آم کھائے، جس کے بعد انہیں شدید قے اور دست کی شکایت ہوئی اور حالت بگڑ گئی۔ ہاسپٹل میں علاج کے دوران دو بہنیں بھوانیشوری اور سندھیہ کی موت واقع ہو گئی جبکہ باقی افراد زیر علاج ہیں۔

 

پولیس نے اس معاملے میں مقدمہ درج کر کے مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا آم کو جلدی پکانے کے لئے استعمال ہونے والے کیمیکلز یا کسی اور زہریلے مادے کا اس واقعے میں کردار ہے۔

 

پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈاکٹروں کی رائے کا انتظار کر رہی ہے جبکہ فوڈ اور فروٹ کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

 

ادھر ماہرین فوڈ سیفٹی کے مطابق حالیہ برسوں میں مختلف پھلوں میں کیمیکل کے استعمال سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عوام میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button