انٹر نیشنل

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کے بدلے دو سخت شرائط رکھ دیں

امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال کے درمیان نئی سفارتی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دینے کی تجویز دی ہے، تاہم اس کے بدلے دو شرائط عائد کی ہیں۔

 

ایرانی تجویز کے مطابق پہلی شرط یہ ہے کہ امریکہ  آبنائے ہرمز کے قریب جاری بحری ناکہ بندی ختم کرے، جبکہ دوسری شرط یہ ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی دوبارہ شروع کیے جائیں۔ یہ تجویز مبینہ طور پر پاکستان کے ذریعہ بطور ثالث امریکہ کو بھیجی گئی ہے۔

 

اس پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی تجاویز پہلے کے مقابلے میں بہتر ضرور ہیں لیکن کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ناکافی ہیں۔

 

ادھر لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات پر حزب اللہ نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے “سنگین گناہ” قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ عمل ملک کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے جواب میں کہا کہ مذاکرات کرنا غداری نہیں بلکہ ملک کو جنگ میں دھکیلنا اصل غداری ہے، تاہم انہوں نے حزب اللہ کا نام لیے بغیر ردعمل دیا۔

 

اسی دوران لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 14 افراد جاں بحق اور 37 زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 

دوسری جانب ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم رضائی نے پاکستان کو غیر جانبدار ثالث قرار دینے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ امریکی مفادات کے قریب نظر آتا ہے۔

 

ادھر بحیرہ عمان کے قریب بھارتی عملے کے ساتھ سفر کرنے والے ایک بحری جہاز پر ایرانی کوسٹ گارڈ کی فائرنگ کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ بھارتی وزارتِ بندرگاہ و شپنگ کے مطابق یہ واقعہ تیل بردار جہاز “ایم ٹی سیران” کے ساتھ پیش آیا، تاہم جہاز میں موجود تمام 17 بھارتی عملہ محفوظ رہا۔

 

اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پوتن نے خطے میں امن کے لیے روس کے کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور ایران کی خودمختاری کے دفاع کو سراہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button