اترپردیش میں مولانا شمس الہدیٰ کے مدرسے پر بلڈوزر کارروائی — غیر ملکی فنڈنگ اور غیر قانونی تعمیر کا الزام
اترپردیش کے ضلع سانت کبیر نگر میں مولانا شمس الہدیٰ کے مدرسے کو انتظامیہ کی جانب سے بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا۔
مسلم مخالف چینل سدرشن ٹی وی نے مولانا کے خلاف کئی جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے آن کی ساکھ متاثر کردی تھی سدرشن ٹی وی چینل کے مطابق عالمِ دین ماضی میں اعظم گڑھ کے ایک مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں اور بعد میں 2007 میں برطانوی شہریت حاصل کی۔
ان پر مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کی اور ان کے خلاف کوٹوالی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
بعد ازاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تحقیقات میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی غیر ملکی فنڈنگ کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
مولانا پر الزام ہے کہ انھوں نے مدرسہ مبینہ طور پر بغیر نقشہ اور اجازت کے تعمیر کیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے اسے منہدم کر دیا۔



