انٹر نیشنل

حج کا روح پرور سفر کل سے شروع – لاکھوں عازمین منیٰ روانہ ہوں گے

حیدراباد – 24 مئی ( اردو لیکس ڈیسک) دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہیں ان دنوں سرزمینِ حجاز پر مرکوز ہیں جہاں 8 ذوالحجہ 1447ھ، یعنی “یوم الترویہ” سے حج کے مبارک مناسک کا باقاعدہ آغاز ہورہا ہے۔ لاکھوں فرزندانِ توحید کل منیٰ کی جانب روانہ ہوں گے اور اسی کے ساتھ روحانیت، عبادت اور قربانی کے عظیم سفر کا آغاز ہوجائے گا۔

 

ذرائع کے مطابق بعض عازمینِ حج آج رات نمازِ عشاء کے بعد ہی منیٰ کیلئے روانہ ہونا شروع ہوجائیں گے، جبکہ بڑی تعداد میں حجاج کل نمازِ فجر کے بعد مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچیں گے۔ سعودی حکام نے حجاج کی روانگی کیلئے خصوصی ٹرانسپورٹ، بسوں اور مشاعر ٹرین کا انتظام مکمل کرلیا ہے تاکہ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت منظم انداز میں انجام دی جاسکے۔

 

منیٰ پہنچنے کے بعد حجاج کرام پورا دن عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں مصروف رہیں گے۔ حجاج منیٰ میں پانچ وقت کی نمازیں ادا کریں گے اور رات بھی وہیں قیام کریں گے۔ اسلامی تاریخ میں 8 ذوالحجہ کو “یوم الترویہ” کہا جاتا ہے، جس کا تعلق حضرت ابراہیمؑ کے اس عظیم سفرِ اطاعت سے جوڑا جاتا ہے۔

 

حج کا سب سے اہم رکن “وقوفِ عرفات” منگل 9 ذوالحجہ کو ادا کیا جائے گا۔ اس دن تمام عازمین کو ظہر سے قبل بسوں اور مشاعر ٹرین کے ذریعے میدانِ عرفات پہنچایا جائے گا، جہاں لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا، استغفار اور عبادت میں مشغول رہیں گے۔

 

علمائے کرام کے مطابق وقوفِ عرفات حج کا رکنِ اعظم ہے اور اسی دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ میدانِ عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب و عشاء کی نمازیں ادا کرکے رات گزاریں گے اور رمیِ جمرات کیلئے کنکریاں جمع کریں گے۔

 

سعودی حکومت نے امسال بھی حج انتظامات کیلئے غیر معمولی اقدامات کئے ہیں۔ سکیورٹی، صحت، صفائی، ٹرانسپورٹ اور ہنگامی خدمات کیلئے ہزاروں اہلکار تعینات کئے گئے ہیں تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

 

حج کا یہ عظیم اجتماع نہ صرف عبادت اور روحانیت کا مظہر ہے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد، مساوات اور بھائی چارے کی بے مثال تصویر بھی پیش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button