تلنگانہ

تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کی رفتار سست، 15 دن میں صرف 18 فیصد فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل

حیدراباد : تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) مہم توقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ مہم شروع ہوئے 15 دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک صرف 18 فیصد انرولمنٹ فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل ہو سکی ہے، جس پر حکام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ سست روی کی اہم وجہ ووٹر لسٹ میں ناموں کی غلطیاں بتائی جارہی ہے

 

انرولمنٹ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جولائی مقرر ہے۔ ایسے میں باقی صرف 15 دنوں میں 100 فیصد نشانہ حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

 

دیہی علاقوں میں بوتھ لیول افسران (BLOs) نے تقریباً تمام ووٹروں تک گھر گھر جا کر انرولمنٹ فارم پہنچا دیے ہیں، تاہم ووٹروں سے واپس موصول ہونے والے فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ پہلے دو ہفتوں میں صرف 16 فیصد کام مکمل ہونے کے باعث باقی 84 فیصد فارم مقررہ مدت میں مکمل کرنا حکام کے لیے مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

 

ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ ریاست کے دیہی اضلاع اس معاملے میں بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں، جبکہ جی ایچ ایم سی (حیدرآباد) اور دیگر بڑے شہروں میں یہ عمل بہت سست رفتار سے جاری ہے۔

 

جمعرات کی رات 8 بجے تک کے اعداد و شمار کے مطابق، یادادری بھونگیر ضلع 57.64 فیصد فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ریاست میں پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد کُمُرم بھیم آصف آباد 48.48 فیصد کے ساتھ دوسرے، نلگنڈہ 46.62 فیصد کے ساتھ تیسرے، کھمم 43.43 فیصد کے ساتھ چوتھے اور نظام آباد 37.74 فیصد کے ساتھ پانچویں مقام پر ہے۔

 

دوسری جانب، میڑچل ملکاجگیری ضلع میں صرف 2.44 فیصد فارم ہی ڈیجیٹلائز ہو سکے ہیں حیدرآباد ضلع کا برا حال ہے جہاں۔ 47.36 لاکھ ووٹروں والے حیدرآباد ضلع میں صرف 5.77 فیصد فارمس داخل ہوئے ہیں اور 36.99 لاکھ ووٹروں والے رنگا ریڈی ضلع میں صرف 8.85 فیصد فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل ہوئی ہے، جس سے شہری علاقوں میں عمل کی سست رفتاری واضح ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button