قربانی پر واویلا، مگر عیاشیوں پر خاموشی(قربانی کی اہمیت اور اس پر ہونے والے اعتراضات کا علمی جائزہ )
از

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ

قربانی اسلام کے اُن عظیم الشان شعائر میں سے ہے جو بندۂ مؤمن کے اندر جذبۂ اطاعت، روحِ ایثار، کیفِ وفاداری اور حقیقتِ عبودیت کو بیدار کرتے ہیں۔ یہ محض ایک جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ یہ انسان کے نفس، خواہشات، تکبر، بخل اور دنیا پرستی کو اللہ تعالیٰ کے حضور قربان کرنے کا عملی اعلان ہے۔ قربانی دراصل اُس لازوال سنتِ ابراہیمی کا تسلسل ہے جس نے رہتی دنیا تک وفا، رضا، صبر، استقامت اور اخلاص کا مینار قائم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ “پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔” (سورۃ الکوثر: 2) امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز اور قربانی دونوں کو اپنی خالص عبادت قرار دیا ہے کیونکہ مشرکین غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے۔ (تفسیر ابنِ کثیر، جلد 8، صفحہ 503) امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “وَانْحَرْ” سے مراد عید الاضحی کی قربانی ہے اور یہ شعائرِ اسلام میں سے عظیم شعار ہے۔ (تفسیر قرطبی، جلد 20، صفحہ 220) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ “آپ فرما دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔” (سورۃ الانعام: 162) امام طبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ “نُسُكِي” سے مراد قربانی ہے یعنی مؤمن کی ہر عبادت اور ہر قربانی خالصتاً اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ (تفسیر طبری، جلد 12، صفحہ 238) یہ آیت قربانی کی روح کو واضح کرتی ہے کہ قربانی نمود و نمائش، شہرت یا رسم کے لیے نہیں بلکہ صرف رضائے الٰہی کے لیے ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم﴾ “اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر فرمائی تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے۔” (سورۃ الحج: 34) علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی تمام آسمانی شریعتوں میں مشروع رہی ہے کیونکہ یہ بندگی اور شکرگزاری کا عظیم مظہر ہے۔ (روح المعانی، جلد 17، صفحہ 145) پھر فرمایا: ﴿لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ﴾ “ہرگز اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۃ الحج: 37) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے اخلاص اور نیت کو قبول فرماتا ہے۔ (تفسیر بغوی، جلد 5، صفحہ 415) امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “قربانی کی اصل روح تقویٰ، خشیت اور اطاعت ہے، ورنہ خون بہانا مقصود نہیں۔” (تفسیر کبیر، جلد 23، صفحہ 35) اسی لیے اگر قربانی کے اندر اخلاص نہ ہو تو وہ محض رسم رہ جاتی ہے لیکن جب تقویٰ شامل ہوجائے تو یہی عمل بندے کو قربِ الٰہی عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ قرآنِ مجید میں یوں مذکور ہے: ﴿فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ “پھر جب وہ لڑکا ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں۔” (سورۃ الصافات: 102) حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا: ﴿يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ﴾ “ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزاریے۔” (سورۃ الصافات: 102) یہ صرف ایک بیٹے کا جواب نہیں تھا بلکہ یہ رضا بالقضاء، تسلیم و رضا اور عشقِ الٰہی کی انتہا تھی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ جواب کامل ایمان، اعلیٰ صبر اور عظیم اطاعت کی دلیل ہے۔ جب دونوں نے اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ﴾ “اور ہم نے ایک عظیم قربانی کے ذریعہ ان کا فدیہ کردیا۔” (سورۃ الصافات: 107) اکثر مفسرین کے مطابق “ذِبْحٍ عَظِيمٍ” سے مراد جنت کا مینڈھا ہے۔ (تفسیر ابنِ کثیر، جلد 7، صفحہ 39) یہی وہ مبارک واقعہ ہے
جس کی یاد میں امتِ مسلمہ قربانی کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: “مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ” “قربانی کے دن اللہ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں۔” (سنن ترمذی، حدیث نمبر 1493) ایک اور حدیث میں فرمایا: “فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا” “قربانی قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گی۔” (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3126) رسول اللہ ﷺ خود بھی قربانی فرمایا کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “ضحى النبي ﷺ بكبشين أملحين أقرنين” “نبی کریم ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی دی جو سفید اور سینگوں والے تھے۔” (صحیح بخاری، حدیث نمبر 5558) قربانی کی عقلی حکمتیں بھی بے شمار ہیں۔ قربانی انسان کے اندر ایثار پیدا کرتی ہے۔ قربانی بخل کو ختم کرتی ہے۔ قربانی انسان کو غرباء کا احساس دلاتی ہے۔ قربانی امت میں اخوت پیدا کرتی ہے۔ قربانی اللہ کے حکم کے سامنے جھکنے کا درس دیتی ہے۔ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مؤمن اپنی سب سے محبوب چیز بھی اللہ کے لیے قربان کرسکتا ہے۔ آج انسان مال و دولت، جاہ و منصب اور خواہشات کا غلام بن چکا ہے۔ قربانی اس غلامی کو توڑتی ہے اور بندے کو صرف اللہ کا بندہ بناتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“قربانی میں نفس کو ذلیل کرنا، تکبر کو توڑنا اور فقراء کے ساتھ مواسات کرنا مقصود ہے۔” (حجۃ اللہ البالغہ، جلد 2، صفحہ 74) حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جس دل میں قربانی کی حقیقت پیدا ہوجائے وہ دل دنیا کی محبت سے پاک ہوجاتا ہے۔” (خطباتِ حکیم الامت، جلد 18، صفحہ 210) قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات کو ذبح کرنے کا نام ہے۔ جھوٹ ذبح کرو۔ حرام کمائی ذبح کرو۔ تکبر ذبح کرو۔ حسد ذبح کرو۔ نفرت ذبح کرو۔ گناہوں کو ذبح کرو۔ اگر جانور ذبح ہوگیا مگر نفس زندہ رہا تو قربانی کی روح حاصل نہ ہوسکی۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور جانوروں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے قربانی کا تعلق صرف دنیا سے نہیں بلکہ آخرت سے بھی ہے۔ یہ پلِ صراط پر نور بنے گی۔ یہ میزانِ اعمال میں وزن بنے گی۔ یہ رحمتِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس شخص میں قربانی کی وسعت ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔” (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3123) یہ حدیث قربانی کی شدید اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ فقہاءِ امت نے لکھا ہے کہ قربانی اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہے اور اس کا اہتمام کرنا اہلِ ایمان کی شان ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے۔
(بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 61) قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، رشتہ داروں کو بھی دینا چاہیے اور غرباء و مساکین کو بھی کھلانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ “پس اس میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔” (سورۃ الحج: 28) امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں غرباء کی خبرگیری اور مسلمانوں کے درمیان مواسات کی تعلیم دی گئی ہے۔ قربانی دراصل محبتِ الٰہی کا امتحان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی کا تعلق ایمان کی تکمیل سے جوڑا گیا۔ مسلمان جب قربانی کرتا ہے تو گویا اعلان کرتا ہے کہ اے اللہ! میرا مال تیرا، میری جان تیری، میری خواہشیں تیری، میری زندگی تیری اور میری موت تیری۔ یہی قربانی کی حقیقت ہے، یہی روحِ بندگی ہے، یہی اخلاص ہے، یہی وفاداری ہے، یہی سنتِ ابراہیمی ہے اور یہی شانِ مسلمانی ہے
*قربانی پر اعتراضات کا علمی جائزہ*
آج کے مادّہ پرستانہ، افادیت زدہ اور عقلِ معاش کی چکاچوند میں ڈوبے ہوئے دور میں بعض لوگ یہ سوال بڑے طمطراق کے ساتھ اٹھاتے ہیں کہ “قربانی پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بجائے اگر یہی سرمایہ غریبوں کی شادیوں، یتیموں کی کفالت، تعلیمی اداروں، ہاسپٹلوں اور دیگر انسانی ضروریات پر خرچ کردیا جائے تو کیا یہ زیادہ بہتر نہ ہوگا؟” بظاہر یہ سوال ہمدردی، انسان دوستی اور رفاہی جذبے سے لبریز محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر اس کے فکری پس منظر، دینی شعور، اصولِ شریعت اور فلسفۂ عبادت کا عمیق جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اعتراض دراصل عبادات کے مقصد، شعائرِ اسلام کی حقیقت اور بندگیِ ربّ کے بنیادی تصور سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ فکری مغالطہ ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو “عبدیت” سے “مادّییت” کی طرف منتقل کردیتا ہے، جہاں ہر عبادت کو صرف دنیاوی نفع و نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگتا ہے، حالانکہ اسلام محض معاشی یا سماجی نظام کا نام نہیں بلکہ وہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جس میں عبادت، معیشت، اخلاق، معاشرت، روحانیت، سیاست اور انسانیت سب اپنے اپنے مقام پر متوازن انداز میں موجود ہیں۔
سب سے پہلی بنیادی حقیقت یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قربانی کوئی سماجی رسم یا ثقافتی تہوار نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا قطعی حکم، عظیم عبادت اور سنتِ ابراہیمی ہے۔ عبادات کی بنیاد انسانی عقل، وقتی مصلحت یا مادّی منفعت پر نہیں بلکہ حکمِ الٰہی پر ہوتی ہے۔ اگر عبادات کو صرف ظاہری فوائد کے تابع کردیا جائے تو پھر نماز کے متعلق بھی یہی سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ دن میں پانچ مرتبہ وقت صرف کرنے کے بجائے اگر یہ وقت انسان غریبوں کی خدمت میں لگادے تو کیا زیادہ مفید نہ ہوگا؟ روزے کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایک ماہ بھوکا رہنے کے بجائے اگر یہ کھانا غرباء میں تقسیم کردیا جائے تو کیا بہتر نہ ہوگا؟ حج کے متعلق بھی یہی اعتراض ہوسکتا ہے کہ لاکھوں روپے سفر پر خرچ کرنے کے بجائے وہی رقم اسپتالوں اور اسکولوں پر خرچ کردی جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عبادت اور خدمتِ خلق دونوں کو الگ الگ مستقل نیکیاں قرار دیا ہے، ایک کو دوسرے کا متبادل نہیں بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ “اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔” (سورۃ الکوثر: 2) اس آیتِ کریمہ میں نماز اور قربانی دونوں کو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ غور کیجیے! اگر قربانی کی جگہ صرف غرباء کی امداد ہی مقصود ہوتی تو قرآنِ مجید قربانی کا مستقل حکم ہرگز نہ دیتا۔ درحقیقت قربانی کا مقصد صرف گوشت تقسیم کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا، اپنے مال کو رضائے الٰہی کے لیے قربان کرنا، اور سنتِ ابراہیمی کی تجدید کرنا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا: ﴿لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ﴾ “اللہ تعالیٰ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۃ الحج: 37) اس آیت سے واضح ہوا کہ قربانی کی اصل روح “تقویٰ”، “اطاعت” اور “اخلاص” ہے۔ اگر صرف معاشی منفعت ہی مقصود ہوتی تو اللہ تعالیٰ تقویٰ کا ذکر نہ فرماتا بلکہ غرباء کی مالی مدد ہی کو اصل مقصد قرار دیتا۔
یہ اعتراض دراصل اس مغالطے پر قائم ہے کہ قربانی اور فلاحی خدمات ایک دوسرے کی ضد ہیں، حالانکہ اسلام نے دونوں کو جمع کیا ہے۔ اسلام نے زکوٰۃ بھی رکھی، صدقات بھی رکھے، خیرات بھی رکھی، یتیموں کی کفالت بھی رکھی، مساکین کی اعانت بھی رکھی، صدقۂ فطر بھی رکھا، وقف کا نظام بھی رکھا اور قربانی بھی رکھی۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ “قربانی ختم کرکے صرف فلاحی کام کیے جائیں” تو کل دوسرا شخص کہے گا “مساجد بنانے کے بجائے ہاسپٹل بناؤ”، پھر کوئی کہے گا “مدارس کے بجائے صرف یونیورسٹیاں بناؤ”، پھر کوئی کہے گا “حج کے بجائے فلاحی منصوبے بناؤ”۔ اس طرح رفتہ رفتہ عبادات کا پورا نظام تحلیل ہوکر محض مادّی افادیت کا غلام بن جائے گا۔
اسلام انسان کو صرف “معاشی حیوان” نہیں بناتا بلکہ وہ اسے “عبدِ ربّ” بناتا ہے۔ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ بعض اعمال صرف اس لیے انجام دے کہ اللہ نے ان کا حکم دیا ہے، چاہے انسانی عقل اُن کی تمام حکمتوں کا ادراک کرے یا نہ کرے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا خواب دیکھا تو انہوں نے یہ سوال نہیں کیا کہ “اس سے معاشرے کو کیا فائدہ ہوگا؟” بلکہ فوراً سرتسلیم خم کردیا۔ یہی روحِ عبودیت ہے۔ اگر ہر عبادت کو انسانی عقل کی محدود میزان پر پرکھا جائے تو پھر دین کی بنیاد ہی متزلزل ہوجائے گی۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہی سوال اور یہی دردِ انسانیت صرف قربانی کے موقع پر ہی جاگتا ہے۔ جب شادیوں میں لاکھوں کروڑوں روپے فضول رسموں، اسراف، نمود و نمائش، بے ہودہ آرائش، آتش بازی، ناچ گانے، ڈی جے، فضول ضیافتوں اور دکھاوے کی محفلوں پر لٹائے جاتے ہیں تو اُس وقت کسی کو غریب بچیوں کی شادی یاد نہیں آتی۔ جب سالگرہ کی تقریبات میں محض چند گھنٹوں کی نمائش کے لیے بے تحاشا دولت پانی کی طرح بہائی جاتی ہے، جب ہوٹلوں، ریزورٹس، فیشن شوز، فلمی محفلوں اور لغویات پر کروڑوں روپے صرف کیے جاتے ہیں، جب سوشل میڈیا کی نمائش اور مصنوعی شہرت کے لیے انسان اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے، اُس وقت کسی دانشور، کسی نام نہاد مصلح اور کسی مادّی افادیت کے داعی کی زبان سے یہ جملہ سنائی نہیں دیتا کہ “یہ رقم غریبوں کی تعلیم پر خرچ ہونی چاہیے تھی” یا “اس سے یتیموں کی کفالت ہوسکتی تھی”۔ لیکن جونہی قربانی جیسا مقدس شعیرہ سامنے آتا ہے، یکایک غرباء، تعلیم، ہاسپٹل اور انسانیت یاد آنے لگتی ہے۔ یہ طرزِ فکر دراصل اخلاص پر مبنی نہیں بلکہ شعائرِ اسلام کے متعلق ایک مخفی ذہنی تحقیر اور مادّہ پرستانہ ذہنیت کی عکاسی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قربانی کے خلاف اس قسم کے اعتراضات نہایت سطحی، مغالطہ انگیز اور فکری دھوکہ ہیں۔ یہ بات کہنا کہ “قربانی کی جگہ فلاں کام کرلیا جائے” دراصل عبادت کو انسانی خواہشات کے تابع بنانے کی کوشش ہے، حالانکہ عبادت کی بنیاد “حکمِ خداوندی” پر ہوتی ہے، نہ کہ “انسانی پسند” پر۔ اللہ تعالیٰ کا حکم جیسا ہو، ویسا ہی ادا کرنا بندگی کا تقاضا ہے۔ اگر بندہ اپنی عقل کو وحی پر مقدم کرنے لگے تو پھر دین کا ہر حکم سوالات کی زد میں آجائے گا۔ کوئی نماز پر اعتراض کرے گا، کوئی روزے پر، کوئی حج پر، کوئی زکوٰۃ پر، اور کوئی اذان و حجاب پر۔ یہی وہ خطرناک راستہ ہے جو رفتہ رفتہ انسان کو دین کی روح سے دور کردیتا ہے۔
قربانی محض ایک مالی عمل نہیں بلکہ یہ شعورِ عبدیت، کیفیتِ فدائیت اور روحانی تربیت کا عظیم مظہر ہے۔ یہ انسان کے اندر ایثار پیدا کرتی ہے، مال کی محبت کو توڑتی ہے، دل میں تقویٰ پیدا کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور انسان کو سنتِ ابراہیمی کے ساتھ وابستہ کرتی ہے۔ اگر قربانی کو صرف “گوشت” یا “پیسوں” کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ دراصل قربانی کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔
عقلی اعتبار سے بھی یہ اعتراض نہایت کمزور ہے، کیونکہ قربانی صرف ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ اس کے اندر بے شمار معاشی، معاشرتی اور انسانی فوائد بھی پوشیدہ ہیں۔ دنیا کے بہت سے غریب مسلمان پورا سال گوشت نہیں کھا پاتے، لیکن ایامِ قربانی میں اُن کے گھروں تک گوشت پہنچتا ہے۔ دیہاتوں کے چرواہے، کسان، جانور پالنے والے، چارہ فروش، ٹرانسپورٹ والے، قصائی، چمڑے کے تاجر، مزدور اور بیسیوں کاروبار قربانی سے وابستہ ہیں۔ قربانی ایک مکمل معاشی دائرہ حرکت پیدا کرتی ہے جس سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ اگر قربانی ختم کردی جائے تو ان تمام طبقات کی معیشت شدید متاثر ہوگی۔
پھر یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ جو لوگ قربانی پر اعتراض کرتے ہیں، کیا وہ واقعی اپنی ذاتی عیاشیوں، فضول تقریبات، مہنگی گاڑیوں، شادیوں میں اسراف، برانڈڈ ملبوسات، ہوٹلوں کے اخراجات اور فضول سیاحتوں پر ہونے والے کروڑوں روپے پر بھی اسی شدت سے اعتراض کرتے ہیں؟ اگر کسی کے اندر واقعی غرباء کا درد ہے تو اُسے سب سے پہلے فضول خرچیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، نہ کہ شعائرِ اسلام کے خلاف۔ افسوس یہ ہے کہ آج بعض لوگ قربانی جیسے مقدس شعیرے کو تو “غیر ضروری خرچ” قرار دیتے ہیں لیکن فیشن، فلم، کھیل، موسیقی، آتش بازی، بے مقصد جشن اور فضول نمود و نمائش پر اربوں روپے لٹانے کو “ترقی” اور “تفریح” کا نام دیتے ہیں۔
اسلام توازن کا مذہب ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ صرف قربانی کرو اور غرباء کو بھول جاؤ، بلکہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ، رشتہ داروں کو بھی کھلاؤ اور غرباء کو بھی دو۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ “اس میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔” (سورۃ الحج: 28) گویا قربانی عبادت بھی ہے اور رفاہِ عامہ کا ذریعہ بھی۔
احادیثِ مبارکہ میں قربانی کی عظمت کو نہایت مؤکد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں۔” (سنن ترمذی، حدیث نمبر 1493) اگر قربانی محض اختیاری رفاہی عمل ہوتی تو نبی کریم ﷺ اس قدر تاکید نہ فرماتے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: “جس شخص میں قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔” (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3123) یہ الفاظ قربانی کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔
درحقیقت قربانی پر اعتراض کرنے والوں کی فکری بنیاد “سیکولر افادیت” ہے، جو ہر چیز کو صرف دنیاوی فائدے کے پیمانے پر ناپتی ہے، جبکہ اسلام “روحانی افادیت” کو بھی حقیقت مانتا ہے۔ ایک مسلمان صرف مادی فوائد کے لیے نہیں جیتا بلکہ رضائے الٰہی، تقویٰ، اخلاص اور آخرت کی کامیابی کے لیے بھی جیتا ہے۔ قربانی انسان کے اندر ایثار پیدا کرتی ہے، اللہ کی محبت کو مضبوط کرتی ہے، مال کی محبت کو کم کرتی ہے، روحِ بندگی کو تازہ کرتی ہے اور انسان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت سے جوڑتی ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ *اسلام میں “یا یہ یا وہ” کا تصور نہیں بلکہ “یہ بھی اور وہ بھی” کا تصور ہے۔* مسلمان قربانی بھی کرے گا، زکوٰۃ بھی دے گا، صدقہ بھی کرے گا، یتیموں کی کفالت بھی کرے گا، تعلیم پر بھی خرچ کرے گا، ہاسپٹل بھی بنائے گا اور غرباء کی مدد بھی کرے گا۔ جو دین چودہ سو سال پہلے بیت المال، وقف، زکوٰۃ، صدقات اور رفاہِ عامہ کا عظیم ترین نظام دے چکا ہو، اُس پر انسانیت فراموشی کا الزام لگانا دراصل جہالتِ محض ہے۔
قربانی کے خلاف یہ اعتراض کہ “اس کی جگہ غریبوں کی مدد کردی جائے، تعلیم پر خرچ کردیا جائے یا رفاہی منصوبے بنالیے جائیں” محض ایک سطحی سوال نہیں بلکہ یہ درحقیقت شعائرِ اسلام کو بتدریج کمزور کرنے کی ایک فکری، تہذیبی اور اعتقادی یلغار ہے۔ یہ وہ خطرناک ذہنیت ہے جو بظاہر خیرخواہی، انسان دوستی اور سماجی ہمدردی کے خوشنما لبادے میں سامنے آتی ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ عبادات کی عظمت کو کم کرنا، دینی شعور کو مادّی افادیت کے تابع بنانا، اور آہستہ آہستہ مسلمانوں کے دلوں سے شعائرِ اسلام کی حرمت کو زائل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہ وہ فکر ہے جو انسان کو بندگیِ ربّ سے نکال کر صرف دنیاوی نفع و نقصان کا غلام بنادیتی ہے، یہاں تک کہ انسان ہر عبادت کو محض مادّی پیمانوں سے جانچنے لگتا ہے اور اُس کی نگاہ سے روحانیت، اخلاص، عبدیت اور حکمِ خداوندی کی عظمت اوجھل ہوجاتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی قوم کے اندر دینی شعائر کی عظمت کمزور ہونے لگتی ہے تو سب سے پہلے اُن عبادات کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو اسلام کی اجتماعی شناخت، ایمانی غیرت اور روحانی تشخص کی علامت ہوتی ہیں۔ کبھی اذان پر اعتراض کیا جاتا ہے، کبھی حجاب کو “ترقی کی راہ میں رکاوٹ” کہا جاتا ہے، کبھی مدارس کو “غیر مفید ادارے” قرار دیا جاتا ہے، کبھی داڑھی اور سنتوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور کبھی قربانی جیسے عظیم شعیرے کو “معاشی نقصان” اور “غیر ضروری خرچ” کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ یہ سب الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک ہی فکری زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں کو اُن کے دینی امتیاز، روحانی تشخص اور شعائرِ اسلام کی عظمت سے دور کردینا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شعائرِ اسلام محض ظاہری اعمال نہیں بلکہ یہ ایمان کے زندہ مظاہر اور بندگی کے علَم بردار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ “اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔” (سورۃ الحج: 32) اس آیتِ کریمہ نے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کردی کہ شعائرِ اسلام کی تعظیم دراصل دل کے تقویٰ، ایمان کی حرارت اور روحانی زندگی کی علامت ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص قربانی جیسے شعیرے کو “غیر ضروری” ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ دراصل شعائرِ الٰہی کی عظمت کو کمزور کرنے کے راستے پر چل پڑتا ہے، چاہے اُسے خود اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔
یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ آج دنیا میں بے شمار فضولیات، عیاشیاں، لہو و لعب، بے ہودہ تقریبات اور اسراف کے طوفان برپا ہیں، لیکن ان کے خلاف وہ آواز کبھی بلند نہیں ہوتی جو قربانی کے خلاف بلند کی جاتی ہے۔ شادیوں میں کروڑوں روپے کی فضول آرائش، مصنوعی نمود و نمائش، آتش بازی، ناچ گانے، فحش موسیقی، اسراف سے بھرپور دعوتیں، بے مقصد برتھ ڈے پارٹیاں، فیشن شوز، فلمی تقریبات، کرکٹ اور تفریحی میلوں پر اربوں روپے لٹائے جاتے ہیں، لیکن اُس وقت کسی مادّی افادیت کے علمبردار کو غریب بچوں کی تعلیم یاد نہیں آتی، کسی کو یتیموں کی کفالت کا خیال نہیں آتا، کسی کو ہاسپٹل اور رفاہی ادارے نظر نہیں آتے۔ مگر جونہی قربانی کا مبارک شعیرہ سامنے آتا ہے تو اچانک انسانیت، غربت، تعلیم اور رفاہی خدمات کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اصل ہدف “فضول خرچی” نہیں بلکہ “شعائرِ اسلام” ہیں۔
اگر واقعی مسئلہ صرف غرباء کی مدد اور انسانیت کی خدمت کا ہوتا تو سب سے پہلے فضول شادیوں کے خلاف تحریکیں چلائی جاتیں، فلمی صنعت کی عیاشیوں پر سوالات اٹھائے جاتے، کھیل اور تفریح کے نام پر ہونے والے اربوں کے ضیاع پر آواز بلند کی جاتی، فیشن اور سوشل میڈیا کی نمائش پر تنقید کی جاتی، لیکن افسوس یہ ہے کہ اکثر اوقات خاموشی وہاں ہوتی ہے جہاں واقعی اسراف اور فضول خرچی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور اعتراض وہاں کیا جاتا ہے جہاں اللہ کا حکم، سنتِ ابراہیمی اور شعائرِ اسلام کا نور جلوہ گر ہوتا ہے۔
یہ دراصل “سیکولر مادّہ پرستی” کی وہ فکری بیماری ہے جو ہر چیز کو صرف دنیاوی فائدے کے ترازو میں تولتی ہے۔ اس فکر کے نزدیک وہی عمل قابلِ قبول ہے جس کا فوری مادّی فائدہ نظر آئے، جبکہ اسلام انسان کو محض مادّی مخلوق نہیں سمجھتا بلکہ روحانی حقیقت کا حامل بندہ قرار دیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک بعض اعمال کا مقصد براہِ راست “اطاعتِ الٰہی” ہوتا ہے، خواہ انسانی عقل اُن کی تمام حکمتوں کا ادراک کرے یا نہ کرے۔ اگر ہر عبادت کو مادّی افادیت کے پیمانے پر پرکھا جائے تو پھر نماز، روزہ، حج، اعتکاف، تلاوتِ قرآن اور اذکار سب کے بارے میں یہی سوالات کھڑے کیے جاسکتے ہیں۔ پھر کوئی کہے گا نماز کے بجائے اسپتال بناؤ، کوئی کہے گا روزوں کے بجائے غریبوں کو کھانا کھلاؤ، کوئی کہے گا حج کے بجائے رفاہی فنڈ قائم کرو۔ اس طرزِ فکر کا منطقی انجام یہ ہے کہ رفتہ رفتہ عبادات کا پورا تصور ختم ہوجائے اور دین صرف ایک سماجی یا معاشی فلسفہ بن کر رہ جائے۔
قربانی کے خلاف یہ فکری یلغار دراصل اُس “عبدیت” کے خلاف جنگ ہے جس کی بنیاد یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے بلا چون و چرا سرِ تسلیم خم کردے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیکھا تو اُنہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ “اس کا سماجی فائدہ کیا ہوگا



