جنگ بندی کی گھڑی قریب -امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کی بات چیت کا امکان
امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور؟ جنگ بندی ڈیڈ لائن سے قبل نئی سفارتی کوششیں تیز

اسلام آباد/واشنگٹن/تہران — امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات ایک بار پھر روشن ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک گزشتہ ہفتہ اسلام آباد میں ابتدائی بات چیت کے بعد دوبارہ مذاکرات پر آمادہ دکھائی دے رہے ہیں، اگرچہ پہلا دور کسی امن معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی تھی کہ پہلی بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود، جنگ بندی کی مدت قریب آنے کے باعث دونوں فریق ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے تیار نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان نے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، تاہم اس پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ادھر بعض حلقوں کی جانب سے مذاکرات کو جنیوا میں منعقد کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن 21 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل مذاکرات مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ دوسرے دور میں وہی وفود شریک ہوں گے یا نہیں۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بحران کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ سفارتی بات چیت میں مضمر ہے۔ انہوں نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے، خلاف ورزیوں کو روکنے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔




