عیدگاہ کے باہر دیا گیا بیان بنا مصیبت – 70 سالہ شخص گرفتار ؛ کان پکڑ کر مانگی معافی
میرٹھ: اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض ریمارکس کرنے کے الزام میں میرٹھ پولیس نے 70 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم نے پولیس اسٹیشن میں اپنے کان پکڑ کر معافی مانگی اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 28 مئی کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر ریلوے روڈ عیدگاہ میں نماز کے بعد پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صحافیوں سے گفتگو کے دوران ملزم نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف متنازعہ تبصرے کیے تھے۔
اس واقعہ کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں ملزم کے پیچھے کھڑے چند افراد کو ان کے بیانات پر ہنستے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور ملزم کی شناخت دہلی گیٹ علاقے کے رہائشی احسان کے طور پر کی۔ پولیس نے جمعہ کی شام انھیں ان کے گھر سے گرفتار کرکے ریلوے روڈ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ احسان پیشہ سے کباڑی ہیں۔ گرفتاری کے بعد ان کے رویے میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی اور وہ مسلسل معافی مانگتے رہے۔ دورانِ تفتیش انہوں نے بتایا کہ غصے کی حالت میں ان کے منہ سے نفرت انگیز الفاظ نکل گئے تھے۔
گرفتاری کے بعد جب پولیس نے میڈیا کے سامنے ملزم کو پیش کیا تو وہ لنگڑاتے ہوئے نظر آیا۔ اس دوران اس نے میڈیا کے سامنے بھی کان پکڑ کر معافی مانگی اور سر جھکائے چلتا دکھائی دیا۔ پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
کینٹ سرکل کی افسر نوینا شکلا کے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں آئینی عہدوں پر فائز معزز شخصیات کے خلاف نازیبا اور اشتعال انگیز تبصرے کیے گئے تھے، جن سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ ویڈیو کی جانچ کے بعد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔



