نیشنل

کرناٹک میں مساجد اور کمیونٹی ہالس میں ایس آئی آر فارم بھرنے کا الزام، بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کی الیکشن کمیشن سے شکایت

بنگلورو: کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جنتا دل (سیکولر) نے پیر کے روز ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے فارم کمیونٹی ہالوں، مساجد اور بوتھ لیول افسران کے گھروں میں بھرے جا رہے ہیں

 

جس سے اس عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔این ڈی اے کی ان دونوں جماعتوں کے مشترکہ وفد نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر وی امبوکمار سے ملاقات کر کے شکایت درج کروائی۔ وفد کا کہنا تھا کہ ان بے ضابطگیوں کے باعث ووٹر لسٹ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور اسے ناقابلِ اعتبار قرار دیا جا سکتا ہے۔شکایتی خط میں کیا کہا گیا؟شکایتی خط میں کہا گیا کہ اس مقصد کے لیے واٹس ایپ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو ایس آئی آر فارم بھرنے کے لیے کمیونٹی ہالوں اور مساجد جانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

 

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ طریقۂ کار ایس آئی آر کے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے اور انتخابی عمل کی شفافیت اور سیکولر کردار کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ شکایت کرنے والی جماعتوں کا کہنا ہے کہ قواعد کے مطابق بوتھ لیول افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر گھر جا کر ووٹروں کی شناخت کی تصدیق کریں لیکن شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا۔

 

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں جبکہ بعض مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں نے بھی ان معاملات کو رپورٹ کیا ہے۔بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایچ ڈی کماراسوامی نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت غیر قانونی ووٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر سے متعلق تمام سرگرمیاں فوری طور پر روکی جائیں اور اس پورے عمل کی نگرانی کے لیے کسی دوسری ریاست کے افسر کو مقرر کیا جائے۔

 

بی جے پی لیڈر پرہلاد جوشی نے الزام لگایا کہ حکومت غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے ایس آئی آر کے اصل مقصد کو کمزور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس شکایت پر جواب دیں گے

 

جبکہ آئندہ دنوں میں وفد چیف الیکشن کمشنر سے بھی ملاقات کر کے باضابطہ شکایت پیش کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button