دارالحسنات پبلک اسکول میں جماعت دہم کی شاندار کامیابی پر عظیم الشان تقریبِ تہنیت

دارالحسنات پبلک اسکول میں جماعت دہم کی شاندار کامیابی پر عظیم الشان تقریبِ تہنیت
*1970 میں قائم دار الحسنات کی پہلی صدر معلمہ اور قدیم معلمات کی شرکت،*
*طلبہ و اساتذہ کی شال پوشی*،
*بانیۂ ادارہ مرحومہ صالحہ خاتون رِ ح کو خراجِ عقیدت*

*جگتیال، 4 جولائی : دارالحسنات پبلک اسکول (DPS) میں جماعت دہم کے شاندار اور صد فیصد نتائج کی خوشی میں ایک پروقار اور عظیم الشان تقریبِ تہنیت و اعزاز منعقد کی گئی۔ اس تقریب کی خاص بات یہ رہی کہ ادارہ کی قدیم معلمات اور سابقہ صدر معلمہ محترمہ صبیحہ باجی، جنہوں نے 1970 کی دہائی میں اس ادارے میں تدریسی خدمات انجام دی تھیں، دوسری صدر معلمہ عارفہ ادیب ، خصوصی طور پر حیدرآباد سے تشریف لائیں اور تقریب میں شرکت کی۔
تقریب کے دوران جماعت دہم کی امتیازی کامیابی حاصل کرنے والی *اسکول ٹاپر جمیلہ تنعیم عمیر،* اور کوتاپر ہاجرہ فاطمہ کو انعامات سے نوازا گیا، جب کے دوسرے سارے طلبہ و طالبات کو بھی انعامات سے نوازا گیا، ۔
اسکول مینجمنٹ کی جانب سے اسکول ٹاپر کو دس ہزار روپئے، ، اور دوسرے ہر طالب علم کو پانچ ہزار روپئے نقد انعام دیا گیا ۔۔
ا س موقع پر اسکول کے تمام 28 اساتذہ، *خصوصاً جماعت دہم* کے اساتذہ کی شال پوشی کرکے ان کی بے مثال خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
اس موقع پر اسکول کے چیئرمین جناب شعیب الحق صاحب کی صبیحہ باجی کی جانب سے شا ل پوشی کی گئی ۔ اور سیکریٹری و کرسپانڈنٹ جناب عماد الدین عمیر صاحب کو شال اور یادگاری مومنٹو پیش کیے گئے، سینئر معلم جناب مصطفیٰ کمال صاحب کی بھی شال پوشی عمل میں آئی۔
محترمہ صبیحہ باجی نے اپنے خطاب میں بانیۂ ادارہ مرحومہ صالحہ خاتون کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خلوصِ نیت اور دینی جذبے کے ساتھ اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ آج یہی ننھا پودا ایک تناور، ثمرآور اور سایہ دار درخت بن چکا ہے۔
انہوں نے ان تمام بزرگوں کو بھی یاد کیا، جنہوں نے ابتدائی دور میں مرحومہ صالحہ خاتون کا بھرپور ساتھ دیا، ۔۔
خا ص طور پر مرحو مہ سعادت النساء صاحبہ جنکی اسکول کے لئے 40 سا لہ خدمات رہیں ، اور صبیحہ باجی نے ادارہ کی مزید ترقی، استحکام اور برکت کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
اسکول کے چیئرمین جناب شعیب الحق صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحومہ صالحہ خاتون نے دارالحسنات پبلک اسکول کو جماعتِ اسلامی کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ *”میں اس ادارے کو مضبوط ہاتھوں میں دے رہی ہوں، اب مطمئن ہوں۔”* انہوں نے کہا کہ ادارہ آج اسی اعتماد کے مطابق مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کا بنیادی مقصد نئی نسل کے دین و ایمان کی حفاظت کے ساتھ انہیں اعلیٰ معیار کی جدید تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال جماعت دہم کا نتیجہ سو فیصد رہا، جبکہ 9 طلبہ نے 500 سے زائد نمبر حاصل کرکے غیر معمولی کامیابی درج کی، جس پر تمام اساتذہ اور طلبہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر یہ عزم و ارادہ بھی ظاہر کیا انشاء اللہ اس اسکول کو کالج میں بھی تبدیل کریں گے ۔
قدیم معلمہ محترمہ اسماء بہجت صاحبہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دارالحسنات پبلک اسکول آج بانیانِ ادارہ کے خوابوں اور تمناؤں کی حسین تعبیر بن چکا ہے، جسے دیکھ کر بے حد خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
جناب عماد الدین عمیر صاحب نے اپنے خطاب میں قدیم معلمات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے اپنی عمر اور طویل سفر کی مشقت برداشت کرکے تقریب میں شرکت کی، جو اس ادارے سے آپ کی والہانہ محبت اور گہری وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اسی ادارے کے سابق طالب علم ہیں، اس لیے اس تقریب نے ان کی بچپن کی یادوں کو تازہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جگتیال کے مسلم اقلیت کے لیے دارالحسنات پبلک اسکول ایک ایسا ادارہ ہے جہاں بچوں کے دین و ایمان، اسلامی تہذیب و اقدار کی حفاظت، اور الحا د ، شرک ،دہریت کے اثرات سے معصوم بچوں کے ذہنوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ معیاری، جدید تعلیم بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اسکول کے نتائج منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ انہوں نےکہا کہ ، مزید برآں اس ادارہ میں
*ا لمنير حفظ اکیڈیمی* قائم ہے، جہاں روایتی مدارس کے طریقہ سے ہٹ کر، عصری تعلیم جاری رکھتے ہوئے ، صرف دو سال میں حفظ مکمل کرا یا جاتا ہے۔ اور الحمد للّٰہ اب تک 15 طلبہ حفظ کی تکمیل کر چکے ہیں، اور آگے عصری تعلیم ،انجینرنگ ، اور گریجویٹی کر رہے ہیں۔
اس موقع پر تمام قدیم معلمات جو 1970 سے 2012 تک دار الحسنات میں تدریسی خدمات انجام دیئے ہیں، جنکی تعداد 25 سے زائد تھی شریک تھیں ۔ اُن سب کی تہنیت و شال پوشی محترمہ تفہیم القمر صاحبہ ، سابقہ DPS انچارج، اور عرشیہ کوثر صاحبہ رکن جماعت نے کی،۔
مشہور قدیم معلمات میں وہاج باجی، سراج باجی ، مجیبه باجی، شاہین باجی ، تنویر باجی ، بہجت باجی ،رافت باجی ، عارفہ باجی رئیس باجی ،ناصرہ باجی ،ام عمارہ باجی ، نسرین باجی، عشرت باجی، قا نتہ باجی اور دوسرے شامل تھیں۔
ناصرہ منیر نے بحسن وخوبی رابطہ کاری کی فرائض انجام دینے ۔
قبل ازیں پروگرام کا آغاز رابعہ بصری کی تلاوت سے ہوا، مریم تکریم عمیر نے نعت شریف پڑھی۔ جماعت 9 اور 10کے طالبات نے ڈراما پیش کیا۔
ماریہ منير نے مرحومہ صالحہ خاتون ر ح کو شعیب الحق طالب صاحب کی لکھی ہوی منظوم کلام خراج عقیدت پیش کیا۔
تقریب کی نظامت معلمہ شفاء امِّ را فیدہ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ سمرانہ تبسّم انچارج اور اسٹاف نے حسن و خوبی کے ساتھ تقریب کے انتظامات انجام دیے۔
تقریب میں منیم الدین صاحب ، صلاح الدین صاحب ، انصاری صاحب، زبیر صاحب، طلبہ، اولیائے طلبہ، قدیم معلمات، اساتذہ اور معزز شہریوں کی بڑی تعداد شریک رہی،
جبکہ آخر میں ادارے کی مزید ترقی اور امتِ مسلمہ کی فلاح و کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔بعد ازاں سب حاضرین کی لئے ظہرانہ lunch کا انتظام کیا گیا ۔





