دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے مبینہ روابط کے الزام میں مزید 5 افراد گجرات سے گرفتار

نئی دہلی: گجرات اے ٹی ایس نے پاکستانی دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے کے الزام میں مزید 5افراد کو پاٹن ضلع سے گرفتار کرلیا۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت بلال عبدبھائی شیرا، محمد ایوب کڈی والا عرف محمد کھڈیاسن، محمد پالن پوری عرف خالی ایوب سنسارا، شافیہ رئیس مختی عرف شافی چاپی اور محمد حسن کارڈیا عرف حسن حیدرپوری کے طور پر ہوئی ہے۔ انہیں سدھ پور تعلقہ کے کھڈیال گاؤں سے گرفتار کیا گیا۔
پانچوں ملزمین کو مہسانہ ضلع کے کڈی میں جوڈیشل مجسٹریٹ آر ایم بھاٹیہ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 24 جولائی تک اے ٹی ایس کی تحویل میں بھیج دیا۔ 3 جولائی کو جیشِ محمد سے مبینہ طور پر وابستہ 8افراد کی گرفتاری کے بعد اس معاملہ میں گرفتار ملزمین کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اے ٹی ایس اب اس مبینہ نیٹ ورک کے بم بنانے کے سامان، جیشِ محمد کے لٹریچر اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے مبینہ طور پر حاصل کئے گئے اور چھپائے گئے سامان سے تعلقات کی تحقیقات کررہی ہے۔
سرکاری وکیل پی آر دنتانی نے بتایا کہ اے ٹی ایس نے عدالت سے ملزمین کی تحویل اس لئے مانگی کہ گرفتار کئے گئے نئے ملزمین میں سے ایک نے مبینہ طور پر ٹائم بم بنانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بم بنانے کا سامان اور جیشِ محمد سے متعلق اردو لٹریچر ابھی برآمد نہیں ہوا ہے۔
دنتانی کے مطابق ملزمین میں سے ایک نے مبینہ طور پر دیسی ٹائم بم کا تجربہ بھی کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ تجربہ ناکام رہا۔ اے ٹی ایس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ بم بنانے کا سامان کہاں سے حاصل کیا گیا، اسے کہاں چھپایا گیا اور ملزمین نے جیشِ محمد سے متعلق جہادی کتابیں کس طرح حاصل کیں۔
سرکاری وکیل نے مزید بتایا کہ 3 جولائی کو گرفتار کئے گئے آٹھ افراد میں شامل امین نے مبینہ طور پر نئے گرفتار ملزمین کو جیشِ محمد کا سامان فراہم کیا تھا، جبکہ ایک دیگر ملزم کو بم بنانے کے طریقہ کار کا علم تھا۔




