نیشنل

2020 دہلی فسادات: آئی بی آفیسر انکت شرما قتل کیس میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین مجرم قرار

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے پیر کے روز 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے عہدیدار انکت شرما کے قتل کے مقدمہ میں سابق عام آدمی پارٹی (آپ) کے کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ ملزمین کو قصوروار قرار دے دیا۔

 

کڑکڑڈوما عدالت نے طاہر حسین کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے، فساد، حملہ، مجرمانہ طاقت کے استعمال اور قتل جیسے الزامات میں مجرم ٹھہرایا۔ طاہر حسین کا نام مقدمہ میں سامنے آنے کے بعد عام آدمی پارٹی نے انہیں معطل کر دیا تھا۔ عدالت نے ان کے علاوہ جاوید، انس، ناظم اور قاسم کو بھی انکت شرما کے قتل کا قصوروار قرار دیا۔

 

عدالت نے چھ دیگر ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ان کے خلاف شبہ سے بالاتر ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ سزا کا فیصلہ ابھی نہیں سنایا گیا ہے اور عدالت نے اس سلسلے میں دلائل سننے کے لئے آئندہ تاریخ مقرر کی ہے۔

 

طاہر حسین کے وکیل عبدالغفار نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ عام آدمی پارٹی نے بھی کہا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے فوراً بعد طاہر حسین کو معطل کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے پارٹی کا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔

 

انکت شرما کے بھائی انکور شرما نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مجرموں کو یا تو عمر قید یا سزائے موت دی جائے۔

 

دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچھا، جنہوں نے فسادات کی تحقیقات کی قیادت کی، نے کہا کہ پولیس کی اولین ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا اور غیرجانبدار، شفاف اور ثبوتوں پر مبنی تحقیقات کرنا تھی۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی اور عدالت کا فیصلہ تحقیقاتی ٹیم کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی توثیق کرتا ہے۔

 

استغاثہ کے مطابق طاہر حسین اور دیگر ملزمین نے غیر قانونی ہجوم کا حصہ بن کر فسادات کے دوران آئی بی افسر انکت شرما کو اغوا کیا اور بعد ازاں ان کا قتل کر دیا۔ استغاثہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ طاہر حسین نے ہجوم کو ہندوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے اکسایا اور انہیں "کسی کو نہ چھوڑنے” کی ترغیب دی تھی۔ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے بھی مقدمے میں طاہر حسین کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

 

انکت شرما کی لاش بعد میں ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔ شناخت چھپانے کے لیے ان کے چہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر تیزاب ڈال کر انہیں جلایا گیا تھا۔

 

یہ مقدمہ 26 فروری 2020 کو مقتول کے والد رویندر کمار کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں کہا گیا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے حامی اور مخالف مظاہرین کے درمیان چند باغ پلیا، مین کراول نگر روڈ پر دو سے تین دن سے احتجاج جاری تھا، جس کے دوران دونوں جانب سے پتھراؤ، آگ زنی، فائرنگ اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔

 

شکایت کے مطابق اس وقت کے میونسپل کونسلر طاہر حسین کا دفتر چند باغ پلیا کے قریب واقع تھا، جہاں انہوں نے بڑی تعداد میں افراد کو جمع کیا تھا۔ الزام ہے کہ ان کی عمارت کی چھت سے پتھر، پٹرول بم پھینکے گئے اور فائرنگ بھی کی گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

 

شکایت میں مزید کہا گیا کہ 25 فروری 2020 کی شام تقریباً پانچ بجے انکت شرما دفتر سے گھر واپس آنے کے بعد گھریلو سامان خریدنے کے لیے دوبارہ باہر گئے، لیکن واپس نہیں آئے۔ اہل خانہ نے انہیں قریبی علاقوں اور اسپتالوں میں تلاش کیا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ اگلے روز 26 فروری کو ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی۔ بعد ازاں مقامی نوجوانوں نے اطلاع دی کہ انکت شرما کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش چند باغ پلیا کی مسجد کے قریب سے خجوری خاص نالے میں پھینک دی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button