جنرل نیوز

جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی مجلس منتظمہ کا اجلاس ایس آئی آر پر عوامی بیداری وقت کی اہم ضرورت، غفلت نہ برتی جائے: مولانا حلیم اللہ قاسمی

جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی مجلس منتظمہ کا اجلاس

ایس آئی آر پر عوامی بیداری وقت کی اہم ضرورت، غفلت نہ برتی جائے: مولانا حلیم اللہ قاسمی

 

جمہوریت کے استحکام اورہندو مسلم اتحاد پر زور،تنظیمی امور اوراصلاحِ معاشرہ وغیرہ کے لئے لائحہ عمل پر تجاویز منظور

 

ممبئی 13؍ جولائی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی مجلس منتظمہ کا درمیانی ٹرم کا اجلاس حج ہاؤس، پلٹن روڈ کے دوسرے منزلہ پر مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) کی صدارت میں دوپہر دو بجے شروع ہوا اور شام کو 5 بجے اختتام کو پہنچا۔

 

اس اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی (صدر جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) کی نعت خوانی سے ہوا، پورے صوبہ مہاراشٹر کے تقریباً ایک ہزار سے زائد ممبران مجلس منتظمہ نے اس اجلاس میں شرکت کی۔

 

مفتی محمد یوسف قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے سکریٹری رپورٹ پیش کی اور مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے مفصل خطبہ صدارت دیا جس میں جمعیۃ علماء کے منہج، طریقہ کار اور اس کی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے اس تنظیم کو خالص مذہبی تنظیم بتایا، ملک کی آزادی میں اس کے رہنماؤں کی خدمات بیان کیں اور ملک کے موجودہ حالات میں فرقہ واریت کا مقابلہ کرنے کے لئے ھندو مسلم اتحاد اور مسلم سماج میں اخلاقی سدھار پر خاص زور دیا۔

 

اس اجلاس میں مختلف موضوعات پر سات تجاویز جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے عہدے داروں نے پیش کی،ایس آئی آر سے متعلق تجویز جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے نائب صدر مولانا محمد عارف عمری نے پیش کی،جس میں انومیریشن فارم پر کرنے کا طریقہ بتایا اور اس بات پر خاص توجہ دلائی کہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر بی ایل او کا انتظار نہ کریں، بلکہ جگہ جگہ کیمپ لگائیں، وہاں لوگوں کو اکٹھا کریں اور بی ایل او کو اس کیمپ میں بلاکر لوگوں کے فارم بھرنے میں مدد کریں۔

 

مولانا عمری نے یہ بھی کہا کہ 2002 کی لسٹ جس سے میپنگ کی گئی ہے، اس کا فوٹو اپنے پاس سنبھال کر رکھیں۔ اس اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی ایڈووکیٹ عمران خان نے شرکت کی اور اپنی مختصر تقریر میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی ایس آئی آر تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے تین مرحلے ہیں۔پہلا مرحلہ میپنگ کا تھا جو ہوچکا ہے۔دوسرا مرحلہ انومیریشن فارم پر کرنے کا ہے جس کا سلسلہ جاری ہے،

 

اس کے بعد ایک تیسرا مرحلہ آئے گا وہ یہ کہ الیکٹرول میں جن لوگوں کا نام نہ آسکے گا ان کو مایوس نہیں ہونا ہے بلکہ اس کے لئے قانونی طریقے پر دستاویز پیش کرکے اپنے آپ کو اہل ثابت کرنا زیادہ اہمیت کا حامل مرحلہ ہے۔اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کے لئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔

 

استحکام جمہوریت کے عنوان سے تجویز مفتی محمد ہارون ندوی صاحب (نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے پیش کی، جس میں نظام جمہوریت کی افادیت اور ہندوستان جیسے کثیر المذاھب ملک میں اس کی ضرورت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں راجستھان میں منہدم کی جانے والی مساجد کے احتجاج میں برادران وطن اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو ملک کے جمہوری نظام کے لئے فال نیک ہے،

قاری محمد ادریس انصاری (نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے نوجوان نسل میں نشہ خوری کی عادت اور اس کے عام چلن کا ذکر کیا اور اس کے ازالے کے لئے مناسب حل بتایا،

قاری عبد الرشید حمیدی (نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کے نقصانات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقہ مراٹھواڑہ میں 16 نوجوان شوشل میڈیا پر غیر محتاط رویہ اختیار کرنے کی بنا پر گرفتار کئے جاچکے ہیں اور متعدد مقامات کے نوجوان سوشل میڈیا پر کمنٹ اور لائیک کرنے کی وجہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جن کے مقدمے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی لڑ رہی ہے،

مولانا اشتیاق قاسمی (خازن جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے ہندو مسلم اتحاد پر تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ھند اپنے قیام کے اول دن سے اس بات کی قائل ہے کہ ملک ہندو مسلم اتحاد کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ہے

 

اس تجویز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مولانا حلیم اللہ صاحب قاسمی نے کہا کہ اتحاد کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا مذہب یا رسم و رواج اختیار کر لیں، بلکہ اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا رہتے ہوئے حسن سلوک، اخلاق و مروت اور پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کا عام ماحول بنائیں، جمعیۃ علماء ھند نے اس کے لئے حضرت مولانا سید اسجد مدنی (نائب صدر جمعیۃ علماء ھند) کی کنوینر شپ میں ایک فورم تشکیل دیا ہے جو ملک میں اس کی تحریک چلائے گا، 27 اگست کو اس کا ایک تربیتی پروگرام ممبئی میں رکھا جانا طے پایا ہے، جس کی تفصیلات سے جلد آگاہ کیا جائے گا،

 

قاری محمد یونس چودھری (نائب خازن جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے اصلاح معاشرہ کی ضرورت و اہمیت پر تجویز پیش کی، مولانا عبد القیوم نازش (ناظم مکاتب دینیہ) نے دینی تعلیم کی ضرورت پر تجویز پیش کی اور مفتی حفیظ اللہ قاسمی (ناظم تنظیم) نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی نئی یونٹوں کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے یہ تجویز رکھی کہ ریاست مہاراشٹر کے ہر ضلع میں سہ ماہی احتسابی میٹنگ ہونی چاہئے،

اخیر میں ریاست مہاراشٹر کے پانچ جغرافیائی علاقوں (ممبئی و اطراف، خاندیش، ودربھ، مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ) کے ایک ایک نمائندوں نے اس اجلاس کے متعلق اپنے تاثرات بیان کئے اور صدر اجلاس کی دعا پر اجلاس اختتام کو پہنچا،

اجلاس سے قبل ظہرانہ کا نظم تھا، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم دفتر حافظ محمد عارف انصاری، مولانامحمد اسید قاسمی (رکن مجلس عاملہ) اور ریاستی دفتر کے عملہ نے نظم و انتظام کو حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button