آبنائے ہرمز میں امریکہ کا 2,222 کروڑ کا ڈرون تباہ

نئی دہلی: ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکہ کا 238 ملین ڈالر (تقریباً 2,222 کروڑ روپے) مالیت کا نگرانی ڈرون گر کر تباہ ہو گیا۔ 9 اپریل کو آبنائے ہرمز میں اس واقعے کی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی تھیں
اور اب امریکی بحریہ نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔ MQ-4C ٹرائٹن نامی اس ڈرون پر کسی قسم کا حملہ نہیں ہوا بلکہ تکنیکی خرابی کے باعث یہ گر کر تباہ ہوا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
بین الاقوامی فضائی حدود میں آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کے دوران ٹرائٹن نے اچانک ایمرجنسی کوڈ جاری کیا۔ اس کے بعد یہ 50 ہزار فٹ کی بلندی سے 10 ہزار فٹ تک نیچے آ گیا اور پھر ریڈار سے غائب ہو گیا۔ امریکی نیوی سیفٹی کمانڈ نے اسے "کلاس اے مشاپ” قرار دیا ہے
جس کا مطلب ہوتا ہے 2 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان یا طیارے کی مکمل تباہی۔امریکہ نے اس حادثے کی تصدیق تو کر دی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ کس مقام پر پیش آیا۔ ٹرائٹن ڈرون امریکی بحریہ کے جدید بغیر پائلٹ کے فضائی نظاموں میں شامل ہے
جسے بلند پروازی اور طویل فاصلے کی نگرانی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ اہم سمندری راستوں میں جہاز رانی اور فوجی سرگرمیوں کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس ڈرون کا نقصان امریکی بحریہ کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ
واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے بعد پیش آیا ہے۔



