نیشنل

آل انڈیا گائے رکھشک پارٹی قایم کرنے مولانا ساجد رشیدی کا اعلان

آل انڈیا امام اسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد رشیدی نے مغربی بنگال میں مسلمانوں کی جانب سے گائے نہ خریدنے کے فیصلے کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی عقیدے کے احترام کا پیغام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے یہ کہتے ہوئے گائے نہ خریدنے کا فیصلہ کیا کہ “یہ آپ کا عقیدہ اور آپ کی ماں ہے، ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔”

 

میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا ساجد رشیدی نے کہا کہ گایوں کے تحفظ کے لئے وہ بہت جلد آل انڈیا گائے رکھشک پارٹی قایم کریں گے .اس سلسلہ میں تمام مسلم تنظیموں سے ملاقات کرتے ہوئے قومی سطح پر گائے کے تحفظ کے لئے مهم شروع کریں گے

 

مولانا نے کہا کہ اگر ہندو سماج واقعی بیدار اور متحد ہوجائے تو گائے کو قومی جانور قرار دیے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب عقیدے کا غلط استعمال کیا جاتا ہے اور مذہب کے نام پر فسادات بھڑکائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق عقیدے کے نام پر مسلمانوں پر حملے اور معاشرے میں نفرت پھیلانے کی کوششیں ہندو-مسلم تعلقات کو متاثر کرتی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں کئی ہندو مویشی پالک شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ لوگوں نے سڑکوں پر آکر اپنی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گائیں فروخت نہ ہونے سے ان کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے اور وہ قرض کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ مولانا نے سوال اٹھایا کہ ایسے وقت میں بجرنگ دل جیسے تنظیمیں ان متاثرہ افراد کی مدد کے لیے آگے کیوں نہیں آتیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button