ایپ سیٹ اور انٹرمیڈیٹ میں نمایاں مظاہرہ کرنے والے اقلیتی طلبہ کی سرکاری سطح پر پیش کی جائے گی تہنیت – محمد علی شبیر
حیدراباد – تلنگانہ حکومت ریاستی سطح پر ایپ سیٹ اور انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نمایاں رینک حاصل کرنے والے اقلیتی طلبہ کی تہنیت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے یہ بات بتائی۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ 2 جون کے بعد اقلیتی ٹاپرس کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے، جس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کی تہنیت کی جائے گی اور ریاستی حکومت کی جانب سے لیپ ٹاپس اور دیگر تعلیمی سامان فراہم کیا جائے گا۔
محمد علی شبیر جمعرات کو تلنگانہ سکریٹریٹ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے، جہاں TG-EAPCET کے ایگریکلچر اور فارمیسی شعبہ میں 150.17 نشانات کے ساتھ ریاستی سطح پر پہلی رینک حاصل کرنے والے مکرم احمد کی تہنیت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ تلنگانہ بھر میں تقریباً 80 ہزار طلبہ نے انجینئرنگ اور ایگریکلچر انٹرنس امتحان میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ TMREIS کے طالب علم مکرم احمد نے ریاستی سطح پر پہلی رینک حاصل کرکے اپنے خاندان، اساتذہ اور ادارے کا نام روشن کیا ہے۔
شبیر علی نے کہا کہ مکرم احمد کی کامیابی تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کے بڑھتے ہوئے تعلیمی رجحان کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم بااختیار بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ BC-E زمرہ کے تحت 4 فیصد تحفظات، فیس باز ادائیگی اور پیشہ ورانہ تعلیم تک رسائی جیسی مختلف سرکاری اسکیموں نے اقلیتی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال تلنگانہ میں تقریباً 1400 طلبہ کو مفت میڈیکل کالج نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقلیتی طلبہ پیشہ ورانہ کورسز میں مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
مشیر حکومت نے ضلع کاماریڈی کے سندیپ جونیئر کالج کے ان طلبہ کو بھی مبارکباد دی جنہوں نے انٹرمیڈیٹ امتحانات میں ریاستی رینک حاصل کیں۔ اسما جبین نے BiPC دوسرے سال میں 1000 میں 996 نشانات حاصل کرتے ہوئے ریاست میں دوسری رینک حاصل کی، جبکہ شاریقہ مسکان نے 995 نشانات کے ساتھ تیسری رینک حاصل کی۔
حریہ دلشاد نے MPC پہلے سال میں 470 میں 467 نشانات حاصل کرتے ہوئے ریاستی سطح پر تیسری رینک حاصل کی۔ عائشہ صدیقہ نے BiPC پہلے سال میں 440 میں 436 نشانات کے ساتھ تیسری رینک حاصل کی، جبکہ عافیہ تبسم نے 435 نشانات کے ساتھ چوتھی رینک حاصل کی۔
شبیر علی نے کہا کہ کاماریڈی کے طلبہ، خصوصاً متوسط اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی طالبات کی کامیابی باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ تہنیتی پروگرام اقلیتی برادری کے مزید طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور مسابقتی امتحانات کی طرف راغب کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی کامیابیوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ ریاستی اور قومی سطح پر اپنی تعلیمی پیش رفت جاری رکھ سکیں۔



