تلنگانہ

قطب اللہ پور میں ٹی آر ایس کی پرچم کشائی تقریب۔ کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب

تلنگانہ جہد کاروں سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کیا جائے

فیس کنٹرول قانون جلد از جلد نافذ کیا جائے بصورت دیگر تحریک کے آغاز کا انتباہ

قطب اللہ پور میں ٹی آر ایس کی پرچم کشائی تقریب۔ کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب

 

حیدرآباد/قطب اللہ پور: تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ماہ کے اندر فیس کنٹرول قانون نافذ کیا جائے اور 2 جون تک تحریک کے کارکنوں اور شہداء کے خاندانوں سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں بصورت دیگر حکومت کے خلاف تحریک ناگزیر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2 جون تک قطب اللہ پور حلقہ میں واقع شہداء کی یادگارکا افتتاح کیا جائے ورنہ ٹی آر ایس کی جانب سے خود اس کا افتتاح کردیاجائے گا۔

 

انہوں نے یقین دلایا کہ ٹی آر ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد پنچہ جنیم میں کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائےگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا پارٹی تلنگانہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے وجود میں آئی ہے۔قطب اللہ پور میں ٹی آر ایس کی پرچم کشائی تقریب کے موقع پر بڑی تعداد میں عوام نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ کل سے پرچم فیسٹیول پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے اور آج قطب اللہ پور میں پارٹی کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی حلقہ سے پارٹی کے ایم ایل ایز کی گنتی شروع ہوگی اور یقیناً قطب اللہ پور سے ٹی آر ایس کا ہی امیدوار منتخب ہوگا جبکہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بھی تمام ڈویژنس میں پارٹی امیدوار میدان میں اتارے گی۔

 

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قطب اللہ پور میں تلنگانہ شہداء کی یادگار کی تعمیر کو 20 سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک اس کا افتتاح نہیں کیا گیا حالانکہ خود کو تلنگانہ تحریک کی پارٹی کہنے والوں کو عوام نے کامیاب بنایا تھا اس کے باوجود انہوں نے شہداء کی یادگار کو نظر انداز کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 2 جون تک اس کا افتتاح کیا جائے ورنہ تلنگانہ رکشنا سینا خود اس کا افتتاح کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کا قیام تلنگانہ عوام کے حقوق اور عزت نفس کے تحفظ کے لئے ہوا ہے۔ پارٹی کے پرچم میں شامل زرد رنگ خوشحالی کی علامت ہے

 

جو تنگیڈو پھول کا رنگ بھی ہے اور آدی واسی، بی سی، ملنا اور ایلمّا کی نمائندگی کرتا ہے۔ نیلا رنگ مزدوروں، ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کی علامت ہے، جبکہ سبز رنگ اقلیتوں اور ماحولیات کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں نیلا اور پیلا رنگ زیر بحث ہے اور سب کو انصاف دلانے کے لئے اسی تحریک کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج قطب اللہ پور میں احمد نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرکے پارٹی کو مزید مضبوط کیا ہے اور سب کو تلنگانہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے فوج کی طرح کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جون میں اسکول کھلنے والے ہیں اور پرائیویٹ اسکول اپنی مرضی سے فیسیں بڑھا رہے ہیں۔ اس لئے حکومت فوری طور پر فیس کنٹرول قانون نافذ کرے تاکہ آئندہ ماہ کے اندر فیسوں میں اضافہ روکا جا سکے۔

 

انہوں نے کہا کہ تحریک کے کارکنوں اور شہداء کے خاندانوں سے کئی وعدے کئے گئے لیکن کے کے کمیٹی صرف وقت گزاری کے لئے بنائی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2 جون یوم تاسیس تلنگانہ تک تمام وعدے پورے کئے جائیں اور پنشن، رہائشی پلاٹس اور شناختی کارڈ اسی دن جاری کئے جائیں ورنہ حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پنچہ جنیم میں مفت تعلیم اور مفت علاج بنیادی نکات ہیں کیونکہ تعلیم اور صحت پر ہونے والے اخراجات سے عوام کے گھر برباد ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد پرائیویٹ اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو بھی مفت تعلیم فراہم کی جائے گی اور کسی بھی بیماری کا علاج کسی بھی کارپوریٹ ہاسپٹل میں مفت فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی بیٹی ہیں اور عوام پر کوئی مالی بوجھ ڈالے بغیر حکمرانی کریں گی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست عوام کی مشکلات دور کرنے کے لئے حاصل کی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور تلنگانہ رکشنا سینا کا مقصد عوام کی مشکلات کا خاتمہ ہے

 

۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت میں کوئی بھی کسان خوش نہیں ہے، خریداری مراکز موجود نہیں، بیاگس فراہم نہیں کئے جا رہے ہیں اور حکومت کی عدم خریداری کے باعث کسان اناج کے ڈھیروں پر ہی جان دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ باریک دھان کے معاملے میں حکومت دھوکہ دے رہی ہے اور کسانوں کی پیداوار کو کم درجے میں ڈال کر بونس سے محروم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کسان دشمن حکومت ہے اور تلنگانہ رکشنا سینا کسانوں کے حق میں تحریک چلائے گی

 

۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نوجوانوں کو کاروبار کے لئے دو لاکھ سے بیس کروڑ تک قرض فراہم کرے گی اور سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف والا تلنگانہ حاصل نہیں ہو سکا اور ریاست میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور معذور افراد مشکلات کا شکار ہیں، اس لئے ان سب کے لئے انصاف کو یقینی بنایا جائے

 

گا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ جنیم کا مطلب کرشن کے ہاتھ میں موجود شنکھ ہے، یعنی جہاں دھرم ہوگا وہیں ان کی پارٹی کھڑی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کے لئے پارٹی میں علیحدہ شعبہ موجود ہے اور سکھ، مسلمان اور عیسائی سب کی فلاح کے لئے پارٹی کام کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button