نیشنل

عیدالاضحیٰ سے پہلے قربانی پر نئی پابندیاں – بنگال حکومت کے نوٹیفکیشن پر ہائی کورٹ میں زبردست بحث ؛ فیصلہ محفوظ

کولکتہ : کولکتہ ہائی کورٹ نے عیدالاضحیٰ سے قبل مویشیوں کے ذبیحہ سے متعلق مغربی بنگال حکومت کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر جمعرات کو فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عیدالاضحیٰ 28 مئی کو منائی جائے گی۔

 

چیف جسٹس سجوئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے عرضی گزاروں، ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا۔

 

تنازعہ مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن پر ہے، جس کے مطابق بیل، بچھڑے، گائے اور بھینس وغیرہ کے ذبیحہ سے قبل ویٹرنری حکام سے “فٹنس سرٹیفکیٹ” حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

 

نئے قواعد کے مطابق صرف وہی جانور ذبیحہ کے قابل ہوں گے جن کی عمر 14 سال سے زائد ہو یا جو بیماری، جسمانی نقص یا چوٹ کے باعث مستقل طور پر ناکارہ ہوچکے ہوں۔

 

اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والوں میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا بھی شامل ہیں۔ مہوا موئترا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل شادان فراست نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 1950 کے قانون میں مذہبی قربانی کے لیے استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے، لہٰذا عیدالاضحیٰ کے موقع پر ریاست کو اس استثنیٰ کا استعمال کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلامی روایت کے مطابق قربانی کے لیے صحت مند جانور ضروری ہوتا ہے، جبکہ حکومت کے نوٹیفکیشن میں صرف بوڑھے یا مستقل طور پر معذور جانوروں کے ذبیحہ کی اجازت دی گئی ہے، جو اسلامی اصولوں سے متصادم ہے۔

 

شادان فراست نے کہا، “یہ میرے مذہب کا سب سے بڑا تہوار ہے، اگر استثنیٰ کی شق پر عمل نہیں ہوگا تو پھر اس کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟”انہوں نے معاشی پہلو بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحیٰ میں کئی خاندان مل کر ایک بڑا جانور قربان کرتے ہیں کیونکہ یہ کئی چھوٹے جانور خریدنے سے زیادہ سستا پڑتا ہے۔

 

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ بھی ماضی میں مذہبی مجبوری کے ساتھ معاشی مجبوری کا ذکر کرچکی ہے۔ ان کے مطابق ایک بڑے جانور میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں، جس سے غریب خاندانوں کے لیے قربانی ممکن ہوپاتی ہے۔

 

مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اشوک چکرورتی نے عرضیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن ہائی کورٹ کے پہلے کے ایک حکم کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا، جسے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔

 

انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی ایک “اختیاری” مذہبی عمل ہے، اس لیے اسے بنیادی یا لازمی مذہبی حق کے طور پر تحفظ حاصل نہیں ہے۔اشوک چکرورتی نے کہا، “ایسا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ قانون کی کسی شق کو کالعدم قرار دیا گیا ہو۔”انہوں نے مویشیوں کی اسمگلنگ پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت عائد پابندیوں پر عمل جاری رہنا چاہیے۔

 

مغربی بنگال حکومت نے بھی نوٹیفکیشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہائی کورٹ کی سابقہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یہ اقدام کیا ہے اور بدنیتی کے الزامات کو مسترد کردیا۔

 

ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب تک کسی شخص نے قانون کے تحت ذبیحہ کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست نہیں دی اور یہ قواعد پوری ریاست میں یکساں طور پر نافذ ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button