نیٹ پیپر لیک کیس میں بڑا انکشاف: 2025 میں بھی پیپر لیک ہونے کا شبہ ؛ بی جے پی یوتھ لیڈر کے خاندان کے 5 طلبہ کی کامیابی پر سوالات، تفتیش میں سنسنی خیز موڑ
نئی دہلی: نیٹ یو جی پیپر لیک کیس کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور اس دوران کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 2025 کے نیٹ امتحان میں راجستھان کے جے پور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی یوتھ لیڈر دنیش بیوال خاندان کے پانچ افراد نے کامیابی حاصل کی تھی اور مختلف میڈیکل کالجوں میں داخلے بھی حاصل کیے تھے، جس پر انہیں ملک بھر سے مبارکبادیں دی گئی تھیں۔
دِنیش بیوال نے 6 نومبر 2025 کو فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پانچ بچوں نے نیٹ میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے اور سرکاری میڈیکل کالجوں میں سیٹیں حاصل کی ہیں۔
تاہم اب اسی خاندان پر تحقیقات کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے تازہ طور پر پیپر لیک معاملہ میں دنیش بوال اور ان کے بھائی منگی لال کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ان کے بھتیجے وکاش کے بارے میں بھی نیٹ پیپر لیک اسکینڈل سے تعلق سامنے آیا ہے۔ حکام کے مطابق وکاش نے سوا ئی مادھوپور میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خاندان کے کئی طلبہ نے 10ویں اور 12ویں میں اوسط درجے کے نمبر حاصل کیے تھے لیکن نیٹ 2025 میں ان کے اسکور میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
منگی لال کی بیٹی پرگتی نے دوسہ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا جبکہ دنیش کی بیٹی گن جن نے وارانسی میڈیکل کالج میں سیٹ حاصل کی۔ اسی طرح دیگر رشتہ داروں کی بیٹیوں نے بھی مختلف میڈیکل کالجوں میں داخلے حاصل کیے۔
تاہم نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) اور سائبر ایجنسیوں نے نیٹ 2025 کے پیپر لیک ہونے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ادھر نیٹ 2026 کیس میں بھی تحقیقات جاری ہیں، جہاں ناصک سے شبھم کھیرنار نامی شخص کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اس پر پونے کے یش یادو کو معلومات فراہم کرنے اور پیپر لیک ڈیل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
سی بی آئی نے بوال خاندان کے گھروں پر چھاپے مار کر دستاویزات اور لگژری گاڑیاں ضبط کر لی ہیں۔ منگی لال، دنیش بوال اور وکاش کو سات دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق رشی بوال، جو اسی سال نیٹ میں شریک ہوا تھا، اس کی بھی تلاش جاری ہے۔



