ایک درخت… 14 قسم کے آم – گجرات کے کسان کا حیران کن تجربہ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا
گجرات کے ضلع امریلی کو مشہور کیسر آموں کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن اب اسی ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے کسان نے اپنے منفرد تجربے سے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ دھاری تعلقہ کے دِتلا گاؤں سے تعلق رکھنے والے کسان اوکابھائی بھٹی نے ایک ہی آم کے درخت پر 14 مختلف اقسام کے آم اگا کر حیران کن کارنامہ انجام دیا ہے۔
اوکابھائی بھٹی نے گرافٹنگ تکنیک اور سائنسی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک ہی درخت پر مختلف اقسام کے آم اُگائے ہیں۔ آموں کے موسم میں یہ درخت الگ الگ رنگ، شکل اور ذائقے والے آموں سے بھر جاتا ہے، جسے دیکھنے کے لئے نہ صرف آس پاس کے دیہات بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی لوگ پہنچ رہے ہیں۔
اوکابھائی بھٹی کے مطابق اس درخت پر کیسر، امرپالی، لنگڑا، بادامی، گلابی، رسبری، جمعدار، کالا جمعدار، ہاپس اور طوطاپری سمیت کئی اقسام کے آم اگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک تجربے کے طور پر شروع کیا گیا تھا اور اس کے کامیاب نتائج دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ہر قسم کے آم کا ذائقہ، خوشبو اور رنگت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
مقامی افراد کے مطابق ان میں بعض آموں کی اقسام نایاب ہیں اور نوابی دور میں کافی مشہور ہوا کرتی تھیں، جبکہ کچھ اقسام گجرات کے باہر کے علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس انوکھے تجربے کو دیکھنے کے لیے زراعت اور باغبانی سے وابستہ افراد بھی بڑی تعداد میں گاؤں کا رخ کر رہے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ اوکابھائی بھٹی نے ایک ہی درخت پر مختلف اقسام کے آم اگانے کے لئے کئی برس تحقیق اور تجربات میں صرف کئے۔ عام طور پر آم کا ایک درخت صرف ایک ہی قسم کا پھل دیتا ہے، لیکن ان کے اس تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جدید گرافٹنگ تکنیک کے ذریعے مختلف اقسام کو ایک ساتھ اگایا جا سکتا ہے۔
ماہرین باغبانی کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ نہ صرف کسانوں کو نئی تکنیک اپنانے کی ترغیب دے رہا ہے بلکہ نایاب آموں کی ان اقسام کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ زرعی تحقیق اور بریڈنگ کی ایک بہترین مثال ہے۔



