مسلم نوجوانوں نے بچائیں ہندو بچیوں کی جان، اتراکھنڈ میں انسانیت نے جیت لیا دل

دہرہدون – اتراکھنڈ کے وکاس نگر میں فرقہ وارانہ یم آہنگی انسانیت اور بہادری کی ایک شاندار مثال سامنے آئی ہے، جہاں دو مسلم نوجوانوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو کمسن ہندو بچیوں کو تیز بہاؤ والے شکتی کنال سے بچا لیا۔ یہ واقعہ 16 مئی کو پیش آیا، جس کی ویڈیو اب منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی جرأت اور انسان دوستی کی ستائش کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرن چندیل نامی خاتون نے مبینہ طور پر اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ شکتی کنال میں چھلانگ لگا دی۔ کنال میں پانی کا بہاؤ انتہائی تیز تھا۔ اسی دوران مقامی نوجوانوں صہیب اور مکرّم نے خاتون کو بچوں سمیت کنال میں کودتے دیکھا تو وہ مدد کا انتظار کیے بغیر فوراً پانی میں اتر گئے۔
خطرناک حالات اور تیز لہروں کے باوجود دونوں نوجوانوں نے جدوجہد کرتے ہوئے بچیوں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں نوجوان کس طرح اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی افراد نے اس عمل کو انسانیت، ہمدردی اور بہادری کی اعلیٰ مثال قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صہیب نے بچیوں کو بچانے کے فوراً بعد انہیں اپنے سینے سے لگا کر ہاسپٹل منتقل کیا، اور بروقت کارروائی کے سبب دونوں بچیوں کی جان بچ گئی۔
تاہم بچیوں کی والدہ کرن چندیل نہر کے تیز بہاؤ میں بہہ گئیں۔ بعد ازاں 17 مئی کو اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) کی ٹیم نے دھکرانی پاور ہاؤس کے قریب سے خاتون کی نعش برآمد کرکے پولیس کے حوالے کر دی۔
دریں اثنا، دیہی دہرادون پولیس نے نوجوانوں صہیب سہیب اور مکرّم کی بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں پولیس دفتر مدعو کیا اور بچوں کی جان بچانے پر اعزاز سے نوازا۔



