ملک میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کی راہ ہموار، سپریم کورٹ نے ذات پات کی گنتی کے خلاف تمام عرضیاں خارج کردیں

نئی دہلی : ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملہ پر سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے مردم شماری کے دوران ذاتوں کی گنتی کی اجازت دے دی۔
عدالت عظمیٰ نے کاسٹ سینسس کی مخالفت میں داخل تمام عرضیوں کو مسترد کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کاسٹ سینسس مکمل طور پر حکومت کا پالیسی معاملہ ہے اور ایسے انتظامی امور میں عدالت مداخلت نہیں کرسکتی۔
بنچ نے کہا کہ سماج میں پسماندہ طبقات کی درست آبادی اور ان کی سماجی حالت کا علم ہونے پر ہی حقیقی ترقی ممکن ہوسکے گی۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ فلاحی اسکیمات کا فائدہ صحیح مستحقین تک پہنچانے اور ان کے مؤثر نفاذ کے لئے ذات پر مبنی مردم شماری نہایت ضروری ہے۔
عدالت کے مطابق یہ جاننا لازمی ہے کہ مختلف پسماندہ طبقات کی آبادی کتنی ہے تاکہ حکومت ان کے لئے بہتر منصوبہ بندی کرسکے۔




