مغربی بنگال میں دوسرے مرحلہ کی پولنگ کے دوران ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان جھڑپیں

کولکاتا: مغربی بنگال میں آج اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ جاری ہے، جہاں مجموعی طور پر 142 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ صبح سے ہی ووٹر بڑی تعداد میں پولنگ بوتھس پہنچ رہے ہیں۔ تاہم کئی مقامات پر تشدد اور ہلکی جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
چاپڑا، شانتی پور اور بھانگر میں معمولی جھڑپیں ہوئیں جبکہ اینٹلی حلقے میں بی جے پی امیدوار اور پولنگ افسران و سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا۔ اطلاعات کے مطابق پولنگ بوتھ سے ان کے نمائندے کو باہر نکالے جانے پر یہ تنازعہ پیدا ہوا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوتھ چھوٹا ہونے کی وجہ سے ایجنٹ کو باہر بھیجا گیا، جبکہ ایک سیٹ کے معاملے پر ترنمول امیدوار کی جانب سے بھی ہنگامہ ہوا، جس کے بعد دونوں فریقین کو باہر نکال دیا گیا۔
نادیہ ضلع کے چاپڑا میں ایک بی جے پی پولنگ ایجنٹ پر حملے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ ایجنٹ میئر نے الزام لگایا کہ ترنمول کارکنوں نے ان پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ ای وی ایم مشینوں میں خرابی کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ہاوڑہ میں ووٹنگ مشینوں کے صحیح کام نہ کرنے کے الزامات سامنے آئے۔ ایک ویڈیو میں نیم فوجی اہلکاروں کو ایک شخص کو حراست میں لیتے ہوئے دیکھا گیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ایک اور شخص پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔
کئی مقامات پر املاک کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ شانتی پور میں بی جے پی کے کیمپ آفس کو نقصان پہنچایا گیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ ساؤتھ 24 پرگنہ کے بھانگر میں سیکولر فرنٹ کے پولنگ ایجنٹ کو بوتھ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
ترنمول کانگریس کے رہنما ابھیشیک بنرجی نے بھوانی پور کے مِترا انسٹی ٹیوشن میں ووٹ ڈالا۔ انہوں نے اپیل کی کہ عوام بی جے پی کو 50 سے کم نشستیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 77 نشستیں ملی تھیں اور اس بار بھی بنگال کے عوام انہیں سخت جواب دیں گے۔
دوسری جانب راجیہ سبھا کے رکن ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ اگر اس بار ترنمول کانگریس جیتتی ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگال کی 294 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں اور اس چیلنج کو قبول کیا جانا چاہیے۔
چیف منسٹر ممتا بنرجی نے بھوانی پور میں مختلف پولنگ بوتھس کا دورہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی فورسز مرکز کے احکامات کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے مبصرین بھی بی جے پی کی ہدایت پر کام کر رہے ہیں، ایسے حالات میں منصفانہ ووٹنگ کیسے ممکن ہے۔



