نیشنل

میناکشی نٹراجن کی قانونی کوشش ناکام، سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کردیا – کہا نامزدگی مستردی کے معاملہ میں مداخلت نہیں کریں گے

نئی دہلی : میناکشی نٹراجن کو راجیہ سبھا نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی

 

۔جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اتُل ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے جمعہ کے روز اس درخواست کی سماعت کی۔ میناکشی نٹراجن کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف ایسا کوئی فوجداری مقدمہ نہیں ہے جس میں دو سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا کا امکان ہو، بلکہ انہیں صرف سمن جاری کیے گئے ہیں

 

۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اگر اس نوعیت کے کسی سابقہ عدالتی فیصلے کی نظیر موجود ہو تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

 

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ریٹرننگ آفیسر کسی امیدوار کی نامزدگی مسترد کر دے تو اس کے خلاف مناسب قانونی راستہ الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے اور اسے مسترد کر دیا۔

 

واضح رہے کہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران  الیکشن کمیشن نے کانگریس کی سینئر لیڈر کی نامزدگی کو مسترد کر دیا تھا

 

اطلاعات کے مطابق میناکشی نٹراجن نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کی تھی۔ تاہم بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات نامزدگی فارم میں ظاہر نہیں کیں اور تلنگانہ میں اپنے خلاف درج ایک فوجداری مقدمے کا ذکر بھی نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button