امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کے لئے خطرے کی گھنٹی – چار سال بعد قیام پر لگ سکتی ہے پابندی

واشنگٹن، 17 جولائی: امریکہ میں 3.3 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی طلبہ سمیت بین الاقوامی طلبہ کو جلد ہی سخت امیگریشن قوانین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے طویل عرصے سے جاری ’ڈوریشن آف اسٹیٹس‘ پالیسی ختم کرکے اس کی جگہ مقررہ مدت تک قیام کا نظام نافذ کرنے کی تجویز کو حتمی شکل دے دی ہے۔
جمعرات کو جاری نئی تجویز کے تحت F-1 ویزا رکھنے والے طلبہ کو عام طور پر زیادہ سے زیادہ چار سال تک امریکہ میں رہنے کی اجازت ہوگی۔ تعلیم مکمل کرنے کے لئے اضافی وقت درکار ہونے والے طلبہ کو اپنے مجاز قیام کی مدت ختم ہونے سے پہلے DHS سے مدت میں توسیع حاصل کرنا ہوگی۔ اسی طرح J-1 ایکسچینج وزیٹرس اور غیر ملکی میڈیا نمائندوں کو جاری کئے جانے والے I ویزا رکھنے والوں کے قیام کی مدت بھی مقرر کی جائے گی۔ اس تجویز کے نفاذ سے پہلے اسے کانگریس کی جانچ سے گزرنا ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ویزا نظام کی نگرانی مضبوط کرنا اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو دور کرنا ہے۔ تاہم یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ چار سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے تعلیمی پروگراموں میں زیر تعلیم ہزاروں بین الاقوامی طلبہ کے لئے یہ نیا نظام غیر یقینی صورتحال پیدا کرسکتا ہے۔
ہندوستانی طلبہ پر کیا اثر پڑے گا؟
امریکہ میں اس وقت سب سے بڑا بین الاقوامی طلبہ گروپ ہندوستانی طلبہ کا ہے، اس لئے نئی تجویز کا ان پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔ ’اوپن ڈورز 2024‘ رپورٹ کے مطابق 2023-24 تعلیمی سال میں امریکہ کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 3.31 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی طلبہ نے داخلہ لیا۔ یہ امریکہ کے کل بین الاقوامی طلبہ کا تقریباً 30 فیصد ہیں۔
بہت سے ہندوستانی طلبہ ایسے کورسز کررہے ہیں جنہیں مکمل کرنے میں چار سال سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ ان میں ڈاکٹریٹ ڈگری، تحقیق پر مبنی ماسٹرز پروگرام، میڈیکل ٹریننگ، انجینئرنگ ریسرچ اور دیگر خصوصی پیشہ ورانہ کورسز شامل ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت ان طلبہ کو قانونی طور پر اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مجاز قیام کی مدت ختم ہونے سے پہلے DHS سے توسیع حاصل کرنا ہوگی۔ تاہم سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے توسیع حاصل نہ کرسکا تو اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ موجودہ نظام کے برعکس قانونی قیام کی مدت ختم ہوتے ہی ایسے طلبہ کو امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم تصور کئے جانے کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔
اگر توسیع کی درخواست بروقت منظور نہ ہوئی تو انتظامی تاخیر، درخواستوں کے زیر التوا رہنے یا دستاویزات میں غلطیوں کے باعث بھی طلبہ عارضی طور پر قانونی حیثیت سے محروم ہوسکتے ہیں۔
اگرچہ DHS نے اس تجویز کو حتمی شکل دے دی ہے، لیکن یہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگی۔ اس کے نفاذ کی تاریخ کا اعلان کرنے سے پہلے اسے لازمی طور پر کانگریس کی جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔




