ٹرمپ کے بیانات نے بگاڑا کھیل – امریکہ۔ایران جنگ بندی معاہدہ خطرے میں !

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آ رہی ہے اور اب اس میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔ آئندہ مرحلے کی بات چیت کے حوالے سے عالمی سطح پر بے چینی پائی جا رہی ہے، تاہم سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات نے ایران کو برہم کر دیا ہے، جس کے باعث مذاکرات ہوں گے یا نہیں، اس پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ دباؤ کے آگے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پاکستان میں منعقدہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے، لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہ آنے پر عالمی سطح پر توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے۔ اگرچہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے دوسرے دور کی بات چیت کی امید ظاہر کی جا رہی تھی، مگر ٹرمپ کے اچانک بیانات نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق انہوں نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی معلومات کو عوامی سطح پر بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران امریکی شرائط مان چکا ہے، حالانکہ متعلقہ ذرائع نے اس کی تردید کی ہے۔
ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے اور دیگر مطالبات تسلیم کر لئے ہیں اور جنگ عملاً ختم ہو چکی ہے، جس پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان بیانات کو مسترد کر دیا۔ تہران نے واضح کیا کہ وہ ایسے حالات میں مذاکراتی عمل سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے ان اقدامات نے گزشتہ ایک ہفتے سے قائم نسبتاً مثبت فضا کو متاثر کیا ہے۔
ادھر امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی قیادت کے اندر اختلافات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ اسپیکر محمد قالیباف کے گروپ اور پاسداران انقلاب کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں، جس سے کسی ممکنہ معاہدے کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کا جوہری پروگرام مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنے پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ ایران اس عمل کو مرحلہ وار محدود کرنے کا خواہاں ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ بعض شرائط کے ساتھ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ سخت پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔
اسی دوران امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت محدود کرنے اور ایرانی بحری جہازوں کو روکنے کی کوششوں نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایران نے ان اقدامات کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے سلسلے میں اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں، تاہم ایران کے وفد کی شرکت اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔



