نیشنل

"شوگر” کے نقلی انجکشن کی فروخت کا پردہ فاش 2 گرفتار

نئی دہلی: ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ‘Mounjaro’ کے نقلی انجیکشن کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ چین سے خام مال منگوا کر یہ نقلی انجیکشن تیار کرنے والے گروہ کے دو افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

 

ان ادویات کے جعلی ہونے کی خبر سے ملک بھر کے صارفین میں تشویش پھیل گئی ہے۔پولیس کے مطابق محکمۂ صحت کی ٹیم کو جعلی انجیکشنس کی تیاری کی اطلاع ملی جس کے بعد گروگرام کے سیکٹر 62 میں واقع ایک سوسائٹی میں چھاپہ مارا گیا اور دو ملزمین کو گرفتار کیا گیا۔

 

تفتیش میں معلوم ہوا کہ یہ گروہ چین سے خام مال درآمد کر کے ایک فلیٹ میں جعلی انجیکشن تیار کر رہا تھا۔ بعد ازاں یہ انجیکشن IndiaMART کے ذریعے صارفین کو فروخت کیے جا رہے تھے۔‘Mounjaro’ انجیکشن عام طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریض ہفتہ وار استعمال کرتے ہیں جس سے شوگر کنٹرول میں رہتی ہے

 

اور وزن بھی کم ہوتا ہے،اسی وجہ سے مارکیٹ میں اس کی مانگ زیادہ ہے۔حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک گاڑی سے تقریباً 70 لاکھ روپے مالیت کے جعلی انجیکشن ضبط کیے گئے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان خام مال میں پانی ملا کر یہ انجیکشن تیار کرتے تھے جبکہ بارکوڈ اور پیکجنگ کا کام بھی اسی فلیٹ میں کیا جا رہا تھا۔

 

اس گروہ میں مظفر نامی شخص بطور ڈیلیوری بوائے کام کر رہا تھا جبکہ مرکزی ملزم اوی شرما کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مظفر اتر پردیش اور اوی شرما گروگرام کا رہنے والا ہے۔ان انجیکشند کے نقلی ہونے کی خبر کے بعد ملک بھر میں صارفین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

 

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے جعلی انجیکشنس کے استعمال سے سنگین صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکام اس نیٹ ورک کے پسِ پردہ افراد کے بارے میں مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button