تلنگانہ

نئے تعلیمی سال کے آغاز کا خیر مقدم اولاد کو سرکاری اردو میڈیم مدارس اور کالجس میں داخلہ دلوانے پروفیسر مہہ جبین اختر کی اپیل 

نئے تعلیمی سال کے آغاز کا خیر مقدم اولاد کو سرکاری اردو میڈیم مدارس اور کالجس میں داخلہ دلوانے کی اپیل 

ہر محب اردو اپنے حصے کی شمع روشن کرے- انگریزی اور تلگو میں بھی مہارت ضروری -پروفیسر مہہ جبین اختر کا بیان 

 

حیدرآباد 14 جون( پریس نوٹ) پروفیسر مہہ جبین اختر ریٹائرڈ (عثمانیہ یونیورسٹی )نے نئے تعلیمی سال2027-2026 کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اردو زبان ہندوستانی زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے اس کا انداز بیان میٹھاہے اور اس کے دلکش اسلوب کو ساری کائنات میں پسند کیا جاتا ہے چاہے وہ فلمی گانے ہوں یا ڈائیلاگ کی شکل میں ہوں ڈرامہ، ناول ،رسالوں، مشاعروں، تعلیمی نصاب یا ادبی، محفل ہوانجمنوں،غرض یہ کہ ہر جگہ اردو کے استعمال کے بغیر یہ سب غیر دلچسپ نظر آتے ہیں پروفیسر مہہ جبین اختر نے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے یہ لائق ستائش اقدام ہے انہوں نے والدین سے اپنے بچوں کو اردو میڈیم مدارس اور کالجس میں داخلہ دلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور عربی ایک عالمی زبان ہے ان دونوں زبانوں کا سیکھنا، سمجھنا ،پڑھنا اور لکھناہم سب کے لیے بے حد ضروری ہے

 

انہوں نے اردومیڈیم مدارس اور کالجس میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولیات کا ذکر اور خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کو چاہنے والے ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اردو کی بقا اور تحفظ کے لیے اپنے اپنے حصے کی شمع ضرور روشن کرے انہوں نے کہا کہ والدین سرکاری اردو میڈیم کے مدارس وکالجس میں بچوں کو پڑھائیں اور ان کی تعلیمی حالت پر مسلسل نظر رکھیں انہوں نے کہا کہ اگر انگریزی میڈیم گورنمنٹ یا پرائیویٹ اسکول کالج وغیرہ میں بچے پڑھ رہے ہیں تو لازمی طور پر انہیں اردو بطور زبان دوم ضرور پڑھائیں علاوہ اس کے اردو اخبارات ،رسالے وغیرہ خرید کر پڑھیں اس ڈیجیٹل دور میں بھی مطالعہ نہ صرف معلومات میں اضافہ کرتا ہے

 

بلکہ ذہنی سکون بھی عطا کرتا ہے پروفیسر مہہ جبین اختر نے اردو شعراء، ادیبوں، پروفیسرس اور دیگر محبان اردو سے خواہش کی کہ وہ سرکاری مدارس اور کالجس میں اساتذہ اور لیکچررس کی مخلوعہ جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو توجہ دلائیں کہ ان مخلوعہ جائیدادوں کو فوری کر کیا جائے انہوں نے کہا کہ دفتروں، کالجوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں ،دکانوں، اداروں، اور مکانوں کے علاوہ بینرز پر لگائی جانے والی تختیوں پر مقامی زبان کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی جگہ ملنا بہت ضروری ہے اور اگر کہیں اردو نظر نہ آئے تو محبان اردو کو چاہیے کہ وہ متعلقہ عہدیداروں کو اس طرف نہ صرف توجہ دلائیں بلکہ جب تک عملی اقدامات مکمل نہ ہوں اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مائناریٹی ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تحت جتنے دفاتر اتے ہیں ان سب کے لیٹر ہیڈ پر اردو کو بھی لازمی جگہ دی جائے اور جہاں تک ممکن ہو سکے ہم اردو زبان میں ہی گفتگو کریں فون پر ہو یا ذاتی طور پر رابطے کی زبان اردو ہی ہونی چاہیے اس سلسلے میں ریاست تامل ناڈو کی مثال سامنے رکھیں

 

پروفیسر مہہ جبین اختر نے کہا کہ مشاعروں، ادبی محفلوں میں وقت کی پابندی کے ساتھ شرکت کریں جب سب لوگ وقت پر شرکت کریں گے تو منتظمین کو بھی اپنے اپنے اجلاس وقت پہ شروع کرنے کی سہولت ہو سکے گی آج کل یہ محفلیں شادیوں کی دعوت کی طرح ہو گئی ہیں ہو سکے تو ان ادبی محفلوں میں اپنے دوست احباب رشتہ داروں کو اور بطور خاص اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جائیں تاکہ اردو سننے کی دلکشی سے لطف اندوز ہوں ہماری یہ پابندی اردو محفلوں کے منتظمین کو ذہنی سکون بخشنے کا سبب بنے گی

 

انہوں نے یہ بھی کہا عربی کے ساتھ ساتھ اردو بھی لازمی پڑھائیں انہوں نے کہا کہ اردو اساتذہ اور انجمنوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے خاندان اور اپنے محلوں میں اور جاننے والوں کو اردو پڑھنے کی ترغیب دیں اور جو لوگ اس کار خیر میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنے طور پر بہت زیادہ نہ سہی کم از کم ایک اردو داں ٹیچر یا پروفیسر اپنے خاندان کے بچوں کو یا پھر رشتہ داروں کو یا اس کے علاوہ محلے کے دو تین آدمی اور بچوں کو بھی اردو سکھائیں تو یہ بہت بڑا کام ہوگا پروفیسر مہہ جبین اختر نے مزید کہا کہ یہ خیال دل سے نکال دیں کہ اردو میڈیم سے پڑھ کر بچوں کو ملازمت نہیں ملے گی آج کل بچہ چاہے کسی بھی میڈیم سے تعلیم حاصل کرے روزگار کی قلت تو ہے ہی- اصل چیز مضامین میں عبور حاصل کرنا چاہیے

 

انہوں نے کہا کہ اردو تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی میں مہارت اور تلگو زبان سے وقفیت بھی بہت ضروری ہے ہم اردو میڈیم میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ انگریزی اور تلگو زبان کو مطلق نظر انداز نہیں کر سکتے مہاراشٹرا کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں کے اضلا ع کے اردو میڈیم سے پڑھے بچے قومی اہلیتی امتحانات اور مسابقتی امتحانات میں اول درجے میں آتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ SIR میں بھی اردو کو مادری زبان کی حیثیت سے درج کروائیں اور ہو سکے تو سرکاری اردو میڈیم اسکولس کی بقا اور ترقی کے لیے وہاں کے غریب طلبہ کی مالی مدد بھی کی جائے کسی بچے کی کفالت (اسپانسر )کی جائے یقین جانیے کہ یہ بھی کار ثواب میں شمار کیا جائے گا

 

اس کی طرف توجہ دیں اردو اردو اساتذہ صرف اپنی نوکری پر ہی نظر نہ رکھیں بلکہ ان کی طرف دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس زبان کی روٹی کھائی جا رہی ہے اس کے لیے مضبوط بنیاد چھوڑ جائیں اردو ایسی زبان ہے کہ اس نے ہندوستان کی آزادی کی تحریکوں میں حصہ لیا ہے یہ زبان نظر انداز نہیں کی جا سکتی یاد رکھیں اردو زبان صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ یہ ہماری تاریخ ہے ،شناخت ہے تہذیب و تمدن اور ثقافت ہے

 

اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہماری ہے ورنہ آگے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ہم اپنی اولاد کو جائیداد کے ساتھ ورثہ میں اپنی مادری زبان سے محبت اور شناسائی چھوڑ جائیں اگر اردو نہ ہوتی تو عربی زبان کا اسلامی و ادبی سرمایہ اتنے بڑے پیمانے پرآج موجود نہ ہوتا پروفیسر مہہ جبین اختر نے اخر میں کہا کہ قوموں کی لاپرواہی اور خاموشی کبھی ان کے تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتی ہر انسان اپنے حصے کی ذمہ داریاں ذاتی، ملکی، تہذیبی، ضرور نبھائے اور اردو کے تعلق سے ہم سب کو اپنے اپنے حصے کی شمع جلانا نہایت ضروری ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button