جنرل نیوز

رابطہ مدارس نظام آباد کے تحت منعقد ہونے والا کامیاب تاریخی انعامی جلسہ 22/مدارس کے 66طلباء کو گرانقدر انعامات 

تفصیلی رپورٹ 

از قلم 

عبد القیوم شاکر القاسمی رکن عاملہ رابطہ مدارس نظام آباد تلنگانہ 

14/جون 2026 بروز اتوار بمقام ادارہ انوار المدارس بابن صاحب پہاڑی نظام آباد میں منعقد شدہ انعامی اجلاس کی صدارت مولانا محمد لئیق احمد قاسمی صاحب امام وخطیب جامع مسجد شکرنگر نے فرمائی ضلعی صدر مولانا خضر احمد خان قاسمی نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینیہ صرف تعلیم گاہ اور دانش گاہ نہیں ہے بلکہ یہاں سے قوم و ملت کو قوام زندگی حاصل ہوتی ہے مدارس کے قیام کے لیے اکابر علماء وبزرگان دین کی آہ سحرگاہیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ رابطہ مدارس کا مقصد تعلیمی معیار کی بلندی اور مدارس کا باہمی ربط مقصود ہے ضلع نظام آباد کے تمام مدارس کو اس پلیٹ فارم سے وابستگی کی ضرورت بتاتے ہوئے اس سے الحاق کرنے کی دعوت دی اور عدم وابستگی کو روحانیت سے محرومی کا خدشہ ظاہر کیا مولانا عبد القیوم شاکر القاسمی امام وخطیب مسجد اسلامیہ جنرل سکریٹری جمعیتہ دینی تعلیمی بورڈ وخادم دارالعلوم سعیدیہ مالاپلی نظام آباد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے کہا کہ

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور عروج کی بنیاد ہوتی ہے، اور دینی تعلیم اس بنیاد کو ایمان، اخلاق اور کردار کی مضبوطی سے آراستہ کرتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف مدارس کے درمیان باہمی تعاون، تعلیمی ترقی اور طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے "رابطہ مدارس” ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ رابطہ مدارس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا تاریخی انعامی جلسہ نہ صرف طلبہ کی علمی کامیابیوں کا اعتراف تھا بلکہ اس نے اساتذہ، منتظمین اور مدارس سے وابستہ تمام افراد کے حوصلوں کو بھی نئی توانائی بخشی۔

رابطہ مدارس مختلف دینی و تعلیمی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے مدارس میں نصابی معیار کی بہتری، تعلیمی مقابلے، تربیتی پروگرام اور باہمی مشاورت کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ رابطہ مدارس اتحاد، نظم و ضبط اور تعلیمی ترقی کا ایسا مضبوط نظام ہے جو مدارس کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔

یہ ادارہ طلبہ میں علمی ذوق پیدا کرنے، اساتذہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تعلیمی میدان میں مثبت مسابقت کا ماحول قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

رابطہ مدارس کے تحت منعقد ہونے والا یہ انعامی جلسہ کئی اعتبار سے یادگار اور تاریخی ثابت ہوا۔ جلسے میں مختلف مدارس کے طلبہ، اساتذہ، سرپرستوں اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات، اسناد اور اعزازات سے نوازا گیا۔

اس موقع پر مقررین نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے تعلیم کی اہمیت، دینی علوم کی فضیلت اور معاشرے میں علماء و طلبہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ جلسے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ ہر کامیاب طالب علم کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اسے مزید آگے بڑھنے کا جذبہ دیا گیا انعامات سے نوازا گیا

انعامات اور اعزازات طلبہ کی حوصلہ افزائی کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ جب ایک طالب علم اپنی محنت کا صلہ لوگوں کے سامنے حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر مزید ترقی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ایسے جلسے بچوں میں اعتماد، محنت، مقابلے کا جذبہ اور تعلیمی شوق کو فروغ دیتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ایک چھوٹا سا انعام بھی بچے کے مستقبل کو بدل سکتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ دوسرے طلبہ بھی اس سے متاثر ہو کر آگے بڑھنے کا عزم کرتے ہیں۔ اس طرح ایک مثبت تعلیمی ماحول وجود میں آتا ہے جو پورے ادارے کی ترقی کا سبب بنتا ہے۔نیز

کسی بھی تعلیمی تحریک کی کامیابی کے پیچھے اساتذہ، منتظمین اور کارکنان کی مسلسل محنت شامل ہوتی ہے۔ رابطہ مدارس کے اس تاریخی جلسے نے ان افراد کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے دن رات محنت کرکے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

جب کسی کارکن یا استاد کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے تو اس کے اندر مزید اخلاص، جذبہ اور خدمت کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ حوصلہ افزائی نہ صرف فرد کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ پورے ادارے میں مثبت سوچ اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیتی ہے۔

یہ تاریخی انعامی جلسہ اس بات کا واضح پیغام دیتا ہے کہ کامیابی۔۔ محنت، لگن اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ علم کے حصول میں پوری سنجیدگی اختیار کریں، اساتذہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں کو مزید بہتر انداز میں انجام دیں اور مدارس کے ذمہ داران ایسے پروگراموں کے انعقاد کو جاری رکھیں تاکہ نئی نسل میں علم، کردار اور خدمتِ دین کا جذبہ پروان چڑھے۔اس اجلاس میں سینکڑوں علماء حفاظ ذمہ داران مدارس نے شرکت کی

رابطہ مدارس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا یہ تاریخی انعامی جلسہ یقیناً ایک قابلِ تقلید اور بابرکت اقدام ہے۔ اس نے طلبہ کی حوصلہ افزائی، اساتذہ اور کارکنان کی قدر افزائی اور مدارس کے باہمی اتحاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ رابطہ مدارس کی تمام مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے دین و ملت کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button