نیشنل

کرناٹک میں حجاب پر پابندی ختم – کانگریس حکومت نے تعلیمی اداروں میں مذہبی علامات کو دی اجازت

بنگلورو – کرناٹک میں کانگریس حکومت نے ایک اہم  فیصلہ لیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں حجاب سمیت مذہبی علامات اور روایتی مذہبی اشیاء پہننے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2022 میں سابق بی جے پی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ پابندی کو باضابطہ طور پر منسوخ کردیا گیا ہے۔

 

ریاستی حکومت نے چہارشنبہ کو  جاری کردہ احکامات میں اسکولوں اور کالجوں میں ڈریس کوڈ سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کیا۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے آئین کی جانب سے فراہم کردہ حقِ تعلیم کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

 

نئے احکامات کے تحت طلبہ کے لئے یونیفارم پہننا لازمی ہوگا، تاہم محدود حد تک مذہبی اور روایتی علامات اختیار کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اس کے مطابق طلبہ اب پگڑی، دستار، حجاب، رودراکش مالا اور شیو دھارا مالا جیسی مذہبی لباس پہن سکتے ہیں، بشرطیکہ یونیفارم بھی برقرار رہے۔

 

حکومت نے واضح کیا ہے کہ صرف مذہبی لباس یا علامات پہننے کی بنیاد پر کسی طالب علم کو کلاس روم یا تعلیمی ادارے میں داخلہ سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مذہبی علامات کو یونیفارم کا متبادل تصور نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی وجہ سے نظم و ضبط، شناخت یا سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ ہونا چاہیے۔

 

احکامات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی طالب علم کو مذہبی علامات یا لباس پہننے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت نے 1983 کے کرناٹک تعلیمی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔

 

واضح رہے کہ 2022 میں بی جے پی حکومت نے تعلیمی اداروں میں حجاب اور دیگر مذہبی علامات پر پابندی عائد کی تھی، جس پر اُس وقت ملک بھر میں شدید تنازعہ اور احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button