تلنگانہ

سرکاری اراضیات ہڑپنے کا الزام ڈپٹی کلکٹر کے گھر دھاوا۔ تلنگانہ اینٹی کرپشن بیورو کی کاروائی

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ میں اے سی بی حکام نے آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات کی مصدقہ اطلاع پر آج رنگا ریڈی ضلع کے ڈپٹی کلکٹر ومشی موہن کے گھروں اور دفاتر پر آج صبح دھاوے کئے۔

 

جملہ 8 اہم مقامات پر بیک وقت تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔ حیدرآباد اور رنگا ریڈی اضلاع میں واقع ان کی رہائش گاہ، رشتہ داروں کے گھروں اور دفاتر میں یہ دھاوے کئے گئے۔ ومشی موہن ماضی میں آر ڈی او کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

 

اے سی بی کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری املاک پر قبضہ کیا۔ ان پر یہ بھی سنگین الزامات ہیں کہ انہوں نے شخصی فائدہ کیلئے سرکاری زمینیں خانگی افراد کے حوالے کیں۔تلنگانہ کے میڑچل ملکاجگیری کے ڈپٹی کلکٹر ومشی موہن کے مکانات

 

پر اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں کے دھاوے کے دوران سیکڑوں کروڑ روپے مالیت کی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے۔اے سی بی حکام کے مطابق ومشی موہن، جو ماضی میں شیرلنگم پلی اور دیگر علاقوں میں آر ڈی او کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں پر بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے کے الزامات ہیں۔

 

ان پر عبداللہ پور میٹ اور پگلی پور علاقوں میں تقریباً 8 ایکڑ سرکاری زمین ہڑپنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مذکورہ اراضی کو پہلے اپنے سسر کے نام رجسٹر کروایا گیا اور بعد ازاں ایک ریئلٹر کے حوالے کردیا گیا۔ اے سی بی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک ریئل اسٹیٹ تاجر سے 10 پلاٹس بطور گفٹ ڈیڈ حاصل کیے گئے تھے۔

 

حکام کے مطابق ومشی موہن کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ضبط شدہ دستاویزات اور جائیدادوں کی تفصیلات کی جانچ کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button