اسمبلی میں بی آر ایس کا ہنگامہ، 18 ارکان معطل؛ خواتین ارکان سے مبینہ بدسلوکی پر بحث کا مطالبہ
تلنگانہ اسمبلی میں ہنگامہ، بی آر ایس کے 18 ارکان سیشن بھر کے لیے معطل
حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی کے تیسرے روز کارروائی شروع ہوتے ہی بی آر ایس ارکان نے ’’وی وانٹ جسٹس‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے زبردست احتجاج کیا اور ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالا۔ احتجاج کے دوران بی آر ایس ارکان پوڈیم کے قریب پہنچ گئے اور خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ پولیس کے مبینہ ناروا سلوک پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔
بی آر ایس ارکان نے مطالبہ کیا کہ خواتین ارکان کے ساتھ پیش آئے واقعہ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی معذرت خواہی کریں۔ ارکان نے اپنے ساتھی ارکان کی جانب سے پیش کردہ التوا کی تحریک پر بحث کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
احتجاج کے پیش نظر وزیر امورِ مقننہ سریدھر بابو کی سفارش پر اسپیکر گڈم پرساد کمار نے بی آر ایس کے 18 ارکان کو اسمبلی سے معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ معطلی موجودہ اسمبلی سیشن کے اختتام تک برقرار رہے گی۔
معطل کئے گئے ارکان میں کے ٹی راما راؤ، ہریش راؤ، کوشک ریڈی، مادھاورم کرشنا راؤ، مانک راؤ، چنتا پربھاکر، پرشانت ریڈی، مری راج شیکھر ریڈی، پلا راجیشور ریڈی، کالیرو وینکٹیش، وجئے ڈو، جگدیش ریڈی، انیل جادھو، سدھیر ریڈی، کوتہ پربھاکر ریڈی، سبیتا اندرا ریڈی، کووا لکشمی اور سنیٹا لکشما ریڈی شامل ہیں۔
معطلی کے بعد اسپیکر سے ملاقات کے لیے جانے والے بی آر ایس ارکان کو اسمبلی مارشلز نے روک دیا۔ اس کے بعد دیگر بی آر ایس ارکان نے ایوان کے اندر ہی حکومت کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی جاری رکھی۔



