تلنگانہ

صدر امارات ملت اسلامیہ جگتیال کے انتخابات میں سرکل انسپکٹر کروناکر کی مبینہ مداخلت – الیکشن کمیشن پر دباو ڈالتے ہوئے انتخاب منسوخ کروانے ایم اے باری کا الزام

جگتیال: صدر اماراتِ ملتِ اسلامیہ جگتیال تلنگانہ ایم اے باری نے ملتِ اسلامیہ جگتیال کے صدر کے انتخابات میں ٹاؤن سرکل انسپکٹر پی۔ کروناکر پر مبینہ مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے رول کی مکمل تحقیقات اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایم اے باری نے منگل کو ضلع ایس پی اشوک کمار سے ملاقات کرتے ہوئے سی آئی کروناکر کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی۔

 

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم اے باری نے بتایا کہ جگتیال شہر کے مسلمانوں کی تنظیم اماراتِ ملتِ اسلامیہ کے صدر کا انتخاب ہر دو سال میں ایک مرتبہ جمہوری انداز میں بیلٹ پیپر کے ذریعہ کرایا جاتا ہے۔ اسی سلسلہ میں گزشتہ 4 ستمبر کو صدر کے عہدے کے لئے انتخابات منعقد ہوئے تھے، جس میں انہیں 34,ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب قرار دیتے ہوئے صدر منتخب کیا گیا اور انتخابی کمیشن کی جانب سے کامیابی کا توثیقی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کامیابی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد جب وہ گھر واپس جا رہے تھے تو مسلم کمیونٹی ہال میں جہاں ووٹوں کی گنتی ہوئی تھی ٹاؤن سی آئی کروناکر نے انہیں زبردستی روک لیا اور گھر جانے کے بجائے کمیونٹی ہال میں ہی رہنے کو کہا۔ ایم اے باری کے مطابق، بعد میں انتخابی کمیشن کے ذریعہ ووٹوں کی تین مرتبہ دوبارہ گنتی (ری کاؤنٹنگ) کی گئی اور تینوں مرتبہ وہی کامیاب قرار پائے۔

 

ایم اے باری نے کہا کہ تین مرتبہ ری کاؤنٹنگ کے بعد بھی انہیں کامیاب قرار دیا گیا اور انتخابی کمیشن نے کامیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا تو سی آئی کروناکر نے  انتخابی کمیشن کے ارکان پر دباو ڈالتے ہوئے انتخاب کو منسوخ کرواکر دوبارہ انتخابات کروانے کی تحریر لکھوائی.

 

انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں بعض سیاسی قائدین کی مداخلت بھی ہے۔ ایم اے باری نے ضلع ایس پی سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اس کے لئے سرکل انسپکٹر کروناکر کے شام 6 بجے سے رات 3 بجے تک کے کال ڈیٹا کی جانچ کی جائے، انتخابات میں سی آئی کروناکر کے مبینہ رول کی جانچ کی جائے اور الزامات درست پائے جانے کی صورت میں ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔

 

ایم اے باری نے کہا کہ وہ اس معاملہ میں ہائی کورٹ سے رجوع ہونے میں بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے

متعلقہ خبریں

Back to top button