تلنگانہ

تلنگانہ ہائی کورٹ نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمیں بحال کر دیں

حیدرآباد یکم ستمبر: تلنگانہ بھر کے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ جس میں چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی۔ ایم۔ محی الدین شامل ہیں،نے جسٹس این۔ وی۔ شراون کمار کے اس عبوری حکم پر روک لگا دی ہے جس کے ذریعے شادی مبارک اور کلیان لکشمی فلاحی اسکیموں کے تحت مالی امداد کی تقسیم روک دی گئی تھی۔

 

ریاستی حکومت کی جانب سے دائر اپیل W.A. No. 944 of 2026 کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اے۔ سدرشن ریڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایڈووکیٹ وجے گوپال کی جانب سے دائر کی گئی رِٹ پٹیشن قابلِ سماعت نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو نہ تو ذاتی طور پر کسی نقصان کا سامنا ہوا ہے اور نہ ہی وہ یہ ثابت کر سکے ہیں کہ ان کے کسی قانونی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

 

اس لیے انہیں ایک طویل عرصے سے جاری ایسی فلاحی پالیسی کو چیلنج کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں، جس کا مقصد غریب اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرنا ہے۔ریاستی حکومت کے دلائل اور مستحق افراد کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈویژن بینچ نے سنگل جج کے عبوری حکم کو معطل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کے لیے ان دونوں اسکیموں پر دوبارہ عمل درآمد اور مستحقین کو مالی امداد جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

 

عدالت نے سنگل جج کے سامنے زیرِ سماعت اصل رِٹ پٹیشن کی مزید کارروائی پر بھی روک لگا دی ہے۔ایڈووکیٹ وجے گوپال نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ 2014 سے ان اسکیموں کے تحت مبینہ طور پر تقسیم کی گئی تقریباً 17,000 کروڑ روپے کی رقم واپس وصول کی جائے۔ اس مطالبے سے تلنگانہ کے غریب ترین خاندانوں کو پہلے ہی نیک نیتی سے ملنے والی مالی امداد بھی واپس لیے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم، ڈویژن بینچ نے اس مطالبے کو منظور نہیں کیا اور سنگل جج کے سامنے مزید کارروائی پر روک برقرار رکھی۔

 

اس فیصلے سے ان خاندانوں کو بڑی راحت ملی ہے جن کی مالی امداد جسٹس این۔ وی۔ شراون کمار کے سابقہ عبوری حکم کے بعد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی تھی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button