آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما کے خلاف سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کی عرضی داخل

آسام کے چیف منسٹر کے خلاف سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کی عرضی داخل ؛ عرضی گزار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے آئینی عہدوں پر فائز افراد کی نفرت انگیزی کے خلاف سخت ضابطہ اخلاق کی گزارش
نئی دہلی 2 فروری : جمعیۃ علماء ہند نے اپنے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آج ایک مفصل عرضی داخل کرتے ہوئے آسام کے چیف منسٹر ہیمنت ، سوا سرما کے حالیہ عوامی بیان کو سنگین نفرت انگیز، فرقہ وارانہ اشتعال اور آئینی اقدار کی صریحخلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عرضی میں آسام کے چیف منسٹر کی 27 جنوری 2026 کو دی گئی اس بیان کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جائے گا اور یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی ” براہ راست میاؤں کے خلاف ہیں ۔ عرضی کے مطابق لفظ میاں آسام میں مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز اور توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔
عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ آسام کے چیف منسٹر کی مذکورہ تقریر، اس تناظر میں کہ وہ ایک اعلیٰ آئینی منصب پر فائز ہیں، کسی بھی طرح سے محض رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتی، بلکہ اس کا واحد اور بنیادی مقصد ایک کمیونٹی کے خلاف نفرت، عداوت اور بدخواہی کو فروغ دینا ہے۔ ایسے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے اور ایک مخصوص برادری کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو اپنے عہدے کی مریادا سے غداری ہے۔
جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ وہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کی تقاریر کے لیے سخت ضابطہ اخلاق مقرر کرے، تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی بھی شخص آئینی منصب کی آڑ میں فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی یا کسی کمیونٹی کو بدنام کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہو۔ ایسے ضابطے اس اصول کو مضبوط کریں گے کہ آئین اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور یہی تصور رول آف لاء کی بنیاد ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات آئین ہند میں دی گئی مساوات، اخوت ، سیکولر ازم اور وقار انسانی کی ضمانتوں کو براہ راست مجروح کرتے ہیں اور اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے تحت نہیں آسکتے ۔ جمعیت نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نفرت انگیزی کے خلاف از خود کار روائی ( Suo Motu) سے متعلق واضح ہدایات کے باوجود ایسے بیانات کا تسلسل تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ یہ گزارش ، جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پہلے سے زیر سماعت نفرت انگیزی اور اہانت رسول صلی ا یتیم کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر 1265/2021 میں شامل کی گئی ہے۔ اس مقدمے کی چار سالہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے، فیصلہ سنانے نے سے قبل جمعیۃ علماء ہند کے سینئر وکیل جناب ایم ۔ آر۔ شمشاد اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فرخ رشید سے چند اہم نکاتی مشورے طلب کیے ہیں کہ ان کے نزدیک ملک میں نفرت انگیزی کو روکنے کے لیے کون سے مؤثر اور عملی اقدامات ضروری ہیں ۔
لہذا یہ عرضی اس معنی میں بہت ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر ، آئینی عہدوں کے غلط استعمال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امتیازی طرز عمل جیسے سنگین مسائل کے آئینی وقانونی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔



