جنرل نیوز

حضرت تاج الدین بابا ناگپوریؒ کی تعلیمات انسانیت، محبتِ الٰہی اور اتباعِ شریعت کا روشن مینار ہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حضرت تاج الدین بابا ناگپوریؒ کی تعلیمات انسانیت، محبتِ الٰہی اور اتباعِ شریعت کا روشن مینار ہیں: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

 

حیدرآباد، 12 جولائی (پریس ریلیز):برصغیر ہند کی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے ان خوش نصیب خطوں میں شامل فرمایا ہے جہاں ہر دور میں ایسے نفوسِ قدسیہ جلوہ گر ہوئے جنہوں نے ایمان کی شمعیں روشن کیں، دلوں کو نورِ معرفت سے منور کیا اور انسانیت کو محبت، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا درس دیا۔ ان بزرگوں نے نہ صرف اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عام کیا بلکہ اپنے حسنِ کردار، روحانی فیضان اور عملی نمونہ سے لاکھوں دلوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ اکرم ﷺ کی محبت سے آشنا کیا۔ ہندوستان کی روحانی شناخت انہی اولیائے کرام کے فیوض و برکات سے قائم ہے، جن کے مزارات آج بھی رشد و ہدایت کے مراکز اور محبت و اخوت کے سرچشمے بنے ہوئے ہیں۔

انہی عظیم روحانی شخصیات میں شہنشاہِ ہفت اقلیم، تاجُ الملۃ والدین، حضرت سید تاج الدین بابا ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی نہایت درخشاں ہے، جنہوں نے اپنی بے مثال روحانیت، استقامت علی الشریعت، خدمتِ خلق، اخلاقِ حسنہ اور فیضانِ ولایت سے برصغیر کے لاکھوں انسانوں کی اصلاح فرمائی اور رہتی دنیا تک کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔

 

یہ باتیں پریسیڈینٹ لینگویجز ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (تلنگانہ)، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری، خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی، نے آج صدر دفتر، بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12، حیدرآباد میں منعقدہ ہفتہ وار پروگرام "عوامی مسائل کا حل، احکامِ شریعت کی روشنی میں” سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

 

مولانا نے فرمایا کہ حضرت تاج الدین بابا ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 5 رجب المرجب 1283ھ مطابق 27 جنوری 1861ء کو کامٹی (ناگپور) میں ایک معزز سادات گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب اہلِ بیتِ اطہار سے جا ملتا ہے۔ بچپن ہی سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات اور روحانی آثار نمایاں تھے۔ کم عمری میں والدین کے سایۂ شفقت سے محروم ہونے کے باوجود آپ نے علم و عرفان کی منازل طے کیں اور ظاہری و باطنی علوم میں کمال حاصل کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ حضرت تاج الدین بابا رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ شریعتِ مطہرہ کی پابندی، ذکرِ الٰہی، خدمتِ انسانیت اور اخلاقِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگی کا شعار بنایا۔ آپ کی کرامات اور روحانی تصرفات اپنی جگہ مسلم ہیں، لیکن اولیائے کرام کی حقیقی عظمت کرامات میں نہیں بلکہ شریعت پر کامل استقامت، سنتِ رسول ﷺ کی پیروی اور بندگانِ خدا کی خیر خواہی میں مضمر ہے۔

 

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ آج بعض حلقوں کی جانب سے اولیائے کرام کی تعلیمات اور ان کے روحانی فیضان پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، حالانکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت، اخوت، محبت، رواداری اور اخلاقی انقلاب میں اولیائے کرام کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے نفرتوں کو محبت میں، شرک و جہالت کو توحید و معرفت میں اور تعصب کو انسان دوستی میں تبدیل کیا۔ ان کے مزارات آج بھی لاکھوں انسانوں کے لیے روحانی سکون، اصلاحِ نفس اور اللہ تعالیٰ کی یاد کے مراکز ہیں۔

 

انہوں نے مزید فرمایا کہ حضرت تاج الدین بابا ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ بندہ اگر اخلاص، تقویٰ، صبر، خدمتِ خلق اور اتباعِ سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں عزت و رفعت عطا فرماتا ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اولیائے کرام کی سیرت، کردار، عبادت، علم اور خدمتِ انسانیت سے رہنمائی حاصل کرے اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

 

آخر میں مولانا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے کرام کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور محبتِ الٰہی و محبتِ رسول ﷺ سے اپنے دلوں کو منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور حضرت تاج الدین بابا ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیضان سے امتِ مسلمہ کو ہمیشہ مستفید فرماتا رہے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button