کویت میں تلنگانہ نظام آباد ضلع کے انجینر کے قتل کا معمہ حل – نعش صحرا میں دفن، ایک ملزم گرفتار، دوسرا فرار ؛ ملزم کا تعلق بھی نظام آباد ضلع سے
کویت میں لاپتہ ہونے والے تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے ڈچ پلی منڈل کے کورٹ پلی ٹانڈہ کے رہنے والے 30 سالہ انجینر گگولوٹھ کیلاش کی موت کا معمہ آخرکار حل ہوگیا۔ کویت پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ کیلاش کی ندش سلمی صحرا میں خفیہ طور پر ریت میں دفن کر دی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق 19 مارچ کو کیلاش ہائی وے کے تعمیراتی کام کے سلسلے میں سلمی صحرا گیا تھا۔ اسی دوران کرین سے پیش آئے ایک حادثے میں اس کی موت ہوگئی۔ واقعہ سامنے آنے کے خوف سے اس کے مالک نے ایک اور شخص کی مدد سے نعش کو صحرا میں دفن کر دیا اور بعد میں خود ہی کیلاش کے لاپتہ ہونے کی شکایت پولیس میں درج کرائی تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
کویت پولیس نے لاپتہ ہونے کا مقدمہ درج کرکے کئی ماہ تک تحقیقات جاری رکھیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ صحرا کی طرف جانے والی گاڑی میں دو افراد تھے، لیکن واپسی پر صرف ایک شخص واپس آیا۔ اسی بنیاد پر پولیس کو شبہ ہوا۔ بعد ازاں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی تو اس نے اعتراف کیا کہ کرین حادثے میں کیلاش کی موت ہوگئی تھی اور خوف کے باعث اس نے اپنے والد کے ساتھ مل کر نعش کو صحرا میں دفن کر دیا۔ اعتراف جرم کے بعد کویت پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ گرفتار ملزم بھی ڈچ پلی منڈل کے سام پلی ٹانڈہ پنچایت کے ایک ٹانڈہ کا رہنے والا ہے، جبکہ اس کا والد کویت چھوڑ کر فرار ہوگیا ہے۔ اس کی تلاش جاری ہے۔
ادھر متوفی کیلاش کے گھر والوں نے نظام آباد واپس آنے والے ملزم کے والد کے خلاف ڈچ پلی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کر دی ہے۔
کیلاش، سول انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پانچ سال قبل بہتر روزگار کے لیے کویت گیا تھا۔ 19 مارچ کو اس نے آخری مرتبہ اپنے والدین سے بات کی، جس کے بعد اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ گھر والوں نے کویت میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی اور تقریباً چار ماہ تک اس کی واپسی کے انتظار دن رات کرتے رہے۔




