اقلیتوں کے بجٹ کا بڑا حصہ خرچ ہی نہ ہوا – کانگریس حکومت پر شیخ عبداللہ سہیل کی تنقید
حیدرآباد، 19 ستمبر: بی آر ایس کے سینئر لیڈر شیخ عبداللہ سہیل نے کانگریس حکومت پر اقلیتی بہبود کے لیے مختص فنڈز خرچ نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اسمبلی اجلاس میں حکومت کی اقلیتی بہبود سے متعلق ناقص کارکردگی سامنے آگئی ہے۔
عبداللہ سہیل نے کہا کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق دو مالی سالوں کے دوران اقلیتی بہبود کی اسکیموں کے لیے مختص 5,100.97 کروڑ روپے میں سے صرف 1,972.17 کروڑ روپے خرچ کئے گئے، جو مجموعی رقم کا محض 38.7 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ اپوزیشن کا الزام نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کئے گئے اعداد و شمار ہیں۔ اقلیتی بہبود کے لیے مختص تقریباً دو تہائی رقم خرچ نہیں کی گئی۔ اس سے بڑی غفلت کا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے؟‘‘
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں صورتحال مزید تشویشناک رہی۔ 2,844.02 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے، لیکن صرف 1,010.63 کروڑ روپے خرچ کئے گئے، جو محض 35.5 فیصد بنتے ہیں۔
سہیل نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار صرف اسکیم بجٹ سے متعلق ہیں اور اقلیتی بہبود محکمہ کی تنخواہوں، انتظامی اخراجات اور دیگر غیر اسکیمی مدوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اقلیتی بہبود کے لیے مختص بجٹ ریاست کی مجموعی آبادی میں اقلیتوں کے 14.27 فیصد حصے کے مطابق نہیں ہے۔
سہیل نے کہا، ’’کانگریس بڑے بڑے اعلانات کرتی ہے اور بجٹ دستاویزات میں متاثر کن اعداد و شمار پیش کرتی ہے، لیکن رقم زمینی سطح تک نہیں پہنچتی۔ کاغذوں تک محدود بجٹ کسی طالب علم کو تعلیم نہیں دلا سکتا، غریب خاندان کو مالی مدد نہیں دے سکتا اور نہ ہی روزگار پیدا کرسکتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اسکالرشپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ کا بحران بھی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران حکومت نے تسلیم کیا کہ مختلف طبقات کے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپس کی مد میں ہزاروں کروڑ روپے بقایا ہیں۔
سہیل نے کہا کہ تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں سے اقلیتی طلبہ بھی متاثر ہوئے ہیں اور زیر التوا اسکالرشپس کا معاملہ ہائی کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’طلبہ بجٹ کی تقریروں سے تعلیم حاصل نہیں کرتے۔ کالج صرف یقین دہانیوں سے نہیں چلتے۔ اگر طلبہ کو ضرورت کے وقت اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ جاری نہیں کیا جاتا تو اسکیم کا مقصد ہی ناکام ہوجاتا ہے۔‘‘
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتی بہبود کے فنڈز کی اسکیم وار تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، جن میں مختص رقم، جاری کردہ فنڈز، اخراجات، استفادہ کنندگان اور زیر التوا درخواستوں کی مکمل تفصیلات شامل ہوں۔
سہیل نے کہا کہ حکومت محض نئی رقم مختص کرنے کے اعلانات کو اقلیتی بہبود کے عزم کا ثبوت نہیں بنا سکتی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مختص فنڈز بروقت جاری کئے جائیں اور انہیں حقیقی طور پر مستحق افراد تک پہنچایا جائے۔
انہوں نے کہا، ’’حکومت کل مزید 2,000 کروڑ یا 3,000 کروڑ روپے کا اعلان کرسکتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنی رقم حقیقت میں جاری کی جائے گی اور خرچ ہوگی؟‘‘اگر چاہیں تو میں اسے مزید مختصر، تیز اور اخبار کی فرنٹ پیج اسٹائل میں بھی بنا سکتا ہوں۔



